طوباس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غرب اردن کی طوباس کے گورنری میں جنرل اتھارٹی برائے شہری امور کے عملے نے تیاسیر گاؤں کے شہید علاء خالد محمد صبیح کی میت وصول کر لی، جنہیں قابض اسرائیلی حکام نے 9 اپریل سے اپنے قبضے میں رکھا ہوا تھا۔
اتھارٹی نے وضاحت کی کہ میت ان کے اہل خانہ اور لواحقین کے انتظامات کے مطابق منتقل کرنے کے لیے حوالے کی گئی، تاکہ انہیں ان کے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کیا جا سکے۔ اتھارٹی نے قابض اسرائیل کے قبضے میں موجود تمام شہداء کی میتوں کو واپس لانے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔
اتھارٹی نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ قابض حکام شہید صبیح کی میت کو واپس کریں گے، جو طوباس کے جنوب مشرق میں واقع قصبے تیاسیر میں یہودی آباد کاروں کی گولیوں سے شہید ہوئے تھے، جنہیں چار ماہ تک قبضے میں رکھا گیا تھا۔
شہداء کی میتوں کی واپسی کی قومی مہم نے بتایا کہ شہید نے 9 اپریل 2026 کو تیاسیر قصبے پر یہودی آباد کاروں کے حملے کے دوران گولی لگنے سے جامِ شہادت نوش کیا تھا، جس کے بعد قابض حکام نے تب سے ان کی میت کو قبضے میں لے رکھا تھا۔
میت کی واپسی کا فیصلہ قومی مہم اور القدس سینٹر برائے قانونی امداد و انسانی حقوق کے نمائندے وکیل محمد ابو سنینہ کی جانب سے اسرائیلی سپریم کورٹ میں دائر کردہ قانونی درخواست کے بعد سامنے آیا، جس میں میت کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مہم نے نشاندہی کی کہ یہ درخواست 22 جولائی کو دائر کی گئی تھی اور عدالت نے اسرائیلی پراسیکیوٹر کو جواب دینے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی، جس کے بعد پراسیکیوٹر نے 31 جولائی کو عدالت کو مطلع کیا کہ انہیں جسد خاکی واپس کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، جس کی وجہ سے عدالت نے درخواست کو خارج کر دیا اور طے شدہ سماعت کو منسوخ کر دیا، تاکہ جسد خاکی کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
قابض حکام اب بھی قبرستانوں اور فریزروں میں 801 میتیں قبضے میں رکھے ہوئے ہیں، جن میں 83 بچے، 98 اسیران اور 10 خواتین شہداء شامل ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے شہداء کی میتوں کی واپسی اور ان کی گرفتاری کی پالیسی کے خاتمے کے لیے اپنی قانونی اور انسانی حقوق کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔