مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی فوج نے منگل کی شام مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں اور قصبوں پر اپنی یلغاروں کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا، جس کے دوران شہریوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، آنسو گیس اور ساؤنڈ بم برسائے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ شہر طولکرم اور قصبے کفر اللبد میں قومی آثار اور یادگاروں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
قابض افواج نے بیت لحم کے جنوب میں واقع قصبے بیت فجار پر دھاوا بولا، مثلث کے علاقے میں پوزیشنیں سنبھالیں اور نوجوانوں کی جانب ساؤنڈ بم اور زہریلی آنسو گیس کے گولے داغے، جس کے نتیجے میں شدید جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔
قابض فوج کے سپاہیوں نے قصبے میں واقع ایک تجارتی کیبن پر چھاپہ مارا، اس کی تلاشی لی اور اس کا سامان تہس نہس کر ڈالا، ایسے میں جب بیت فجار کو لگاتار ایسی یلغاروں کا سامنا ہے جن میں شہریوں اور ان کی املاک کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
قابض افواج نے شہر طولکرم میں کئی قومی یادگاروں کو ملیہ میٹ کر ڈالا، جن میں شمالی محلے میں واقع العیمی چوک پر پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے سابق سیکرٹری جنرل جارج حبش کی یادگار، مغربی محلے میں خضوری یونیورسٹی کے روڈ پر شہید زیاد دعاس کا یادگار کتبہ، اس کے علاوہ خضوری چوک اور عزب کے علاقے میں واقع كرومہ چوک پر شہداء کی یادگاریں بھی شامل ہیں۔
قابض فوج نے شہر کے شمالی نواحی علاقے شوائکہ کی گلیوں میں آویزاں شہداء کی تصاویر پھاڑ ڈالیں، اور قصبے کفر اللبد کے وسط میں بجلی کے ایک کھمبے پر نصب شہید نشأت أبو جبارہ کی روشن تصویر کو بھی توڑ ڈالا۔
یہ تمام کارروائیاں طولکرم شہر اور طولکرم و نور شمس کے پناہ گزین کیمپوں پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کے تسلسل کے ساتھ بیک وقت جاری ہیں، جو کہ مسلسل پانچ سو پچپن ویں روز بھی جاری ہے، اور اس جاری بربریت کے نتیجے میں دسیوں افراد شہید، زخمی اور گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ کیمپوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے اور ہزاروں شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
قابض افواج نے اس کے علاوہ نابلس کے جنوب میں واقع قصبے مشرقی اللبن پر بھی دھاوا بولا، جہاں ان کی عسکری گاڑیاں قصبے کے شمالی علاقوں یعنی خلہ زینہ اور القناطر میں مورچہ زن ہو گئیں، مغربی کنارے کے شہروں اور قصبوں میں جاری روزمرہ کی یلغاروں کے سلسلے کے تحت شہریوں کے گھروں پر ساؤنڈ بم اور زہریلی گیس کے گولے برسائے۔