قلقیلیه -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جمعہ کی شام قلقیلیه کے مشرق میں واقع گاؤں فرعتا پر یہودی آباد کاروں کی یلغار کے نتیجے میں سات فلسطینی زخمی ہو گئے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں مسلسل تیزی آ رہی ہے۔
فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی نے اطلاع دی کہ اس کے عملے نے سات زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی، جن میں گولی لگنے کے دو ایسے زخمی بھی شامل ہیں جن میں سے ایک کی حالت انتہائی تشویشناک جبکہ دوسرے کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے، اس کے علاوہ یہودی آباد کاروں کے اس حملے کے دوران دیگر افراد کو مختلف نوعیت کے زخم بھی آئے۔
یہ وحشیانہ حملہ فلسطینی دیاروں اور قصبوں پر یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے ان حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو اندھا دھند فائرنگ، شہریوں اور ان کی املاک پر تشدد کی شکل میں جاری ہیں، اور قابض افواج کی سرپرستی میں یہ غاصب اپنے ان گھناؤنے حملوں کو انجام دیتے ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے جاری غیر معمولی حملوں کے خلاف شدید انتباہات کا سلسلہ جاری ہے، اور ان الزامات کا اعادہ کیا جا رہا ہے کہ یہ حملے ایک منظم دہشت گردی ہیں جنہیں سرکاری سطح پر مکمل آشیرباد حاصل ہے، اور ان کا بنیادی مقصد زمین پر ایک نیا غاصبانہ بستیوں کا نقشہ مسلط کرنا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین ’معطی‘ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سنہ 2026ء کے ماہِ جون کے دوران قابض اسرائیلی افواج اور یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں کُل 6856 پامالیاں اور جرائم سرزد کیے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کی 141 بستیوں اور 224 غیر قانونی چوکیوں میں تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار یہودی آباد کار بنے بیٹھے ہیں، جن میں سے 2 لاکھ 50 ہزار افراد مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں واقع 15 بستیوں میں مقیم ہیں، اور فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق یہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے وہ مظالم ہیں جن کا ہدف فلسطینیوں کو زبردستی ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا ہے۔