غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 16 فلسطینی اسیران کو رہا کر دیا ہے، جبکہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے انہیں کرم ابو سالم گزرگاہ کے ذریعے پٹی کے وسطی شہر دیر البلح میں واقع شہداء الأقصى ہسپتال منتقل کرنے کا فریضہ انجام دیا۔
ریڈ کراس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے عملے نے کرم ابو سالم گزرگاہ سے رہا ہونے والے اسیران کو اپنی تحویل میں لیا اور ضروری طبی معائنے اور ان کی صحت کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے انہیں براہ راست شہداء الأقصى ہسپتال منتقل کر دیا۔
بین الاقوامی کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس کا کردار رہا ہونے والے افراد کی محفوظ نقل و حمل کو آسان بنانے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ان کے رابطے بحال کرنے تک محدود ہے، اس نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اکتوبر سنہ 2023ءسے اب تک قابض اسرائیل کے حراستی مراکز کے اندر فلسطینی اسیران کا دورہ کرنے سے مسلسل ممنوع چلی آ رہی ہے۔
رہا ہونے والے اسیران میں احمد کامل 47 سالہ عبد الهبيل ، ساکن شیخ رضوان، 34سالہ احمد إسماعيل قنن ساکن الدرج، 44سالہ سالم رشدي جنديہ، 5سالہ هانی سليم عبيد ،51 سالہ علاء شعبان الحرازين ساکن الشجاعيہ شامل ہیں۔
اس فہرست میں 44 سالہ محمد عبد أبو راس ،45 سالہ محمود عبد أبو راس ساکن الزيتون کالونی، 30 سالہ علاء محمد أبو مهرہ ساکن التفاح کالونی بھی شامل ۔
اس رہائی میں جبالیا سے تعلق رکھنے والے 44 إياد محمد نوفل، بیت لاهيا سے 43سالہ علاء بسام أبو حليمہ اور خان یونس سے63سالہ محمد سلمان المصری بھی شامل ہیں۔
قابض اسرائیل نے پٹی کے وسطی علاقے میں واقع المغازی کیمپ سے50سالہ عادل عبد الله الطويل اور62سالہ خليل عبد الله الطويل کو بھی رہا کر دیا۔
جبکہ النصيرات سے 39 سالہ محمود عبد أبو عطيو ، محمد سمير زهد اور51سالہ مصطفى حسن حلوق کو رہا کیا گیا۔
یہ کارروائی گذشتہ کچھ عرصے کے دوران غزہ کی پٹی میں دیکھی جانے والی مسلسل رہائیوں کے سلسلے کا ایک حصہ ہے، اس سے قبل کمیٹی نے رواں ماہ کی پندرہ تاریخ کو12 اسیران کی منتقلی کو آسان بنایا تھا، اور اس سے پہلے تیرہ جولائی کو ۷ اسیران کی منتقلی کی گئی تھی، اس کے علاوہ جون کے آخر میں 14 اسیران کو رہا کیا گیا تھا۔
ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس نے سنہ 2023ء کے آخر سے کرم ابو سالم گزرگاہ کے ذریعے نافذ کردہ ایک انسانی رابطہ کاری کے نظام کے تحت غزہ کی پٹی سے رہا ہونے والے اڑیسہ ڈھائی ہزار سے زائد فلسطینی اسیران کی منتقلی کو آسان بنایا ہے۔
کمیشن برائے امور اسیران اور کلب برائے اسیران کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سنہ 2023ء کے اکتوبر سے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کی تعداد میں تراسی فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ان کی تعداد نو ہزار چھ سو اسیران سے تجاوز کر گئی ہے، اور اس دوران انہیں طبی غفلت، تشدد اور بنیادی حقوق سے محرومی کا نشانہ بنائے جانے کے مسلسل الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
فلسطینی طبی اور انسانی حقوق کے اداروں نے اسیران بالخصوص طبی عملے کی حالت زار کے خراب ہونے پر خبردار کیا ہے، جہاں مرکز اطلاعات فلسطین نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے سولہ ڈاکٹروں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ انتہائی خطرناک حراستی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔