• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 17 جولائی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

اسرائیلی جیلوں میں مذہبی پابندیاں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری

 فلسطینی انسانی حقوق ذرائع نے اسرائیلی ڈیمون جیل میں قید فلسطینی نرس اور قیدی شہد محمد عادی (23 سال) کی تشویشناک گواہی جاری کی ہے۔

جمعہ 17-07-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, فلسطین
0
اسرائیلی جیلوں میں مذہبی پابندیاں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری
0
SHARES
0
VIEWS

رام اللہ (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی انسانی حقوق ذرائع نے اسرائیلی ڈیمون جیل میں قید فلسطینی نرس اور قیدی شہد محمد عادی (23 سال) کی تشویشناک گواہی جاری کی ہے، جس میں انہوں نے فلسطینی خواتین قیدیوں کے خلاف مبینہ انتقامی اور غیر انسانی اقدامات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

بیت اُمّر الخلیل سے تعلق رکھنے والی شہد عادی نے بتایا کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ نے خواتین قیدیوں کے کمروں سے قرآن پاک کے نسخے ضبط کیے، جسمانی تشدد کیا اور پولیس کتوں کے ذریعے انہیں خوف و ہراس کا نشانہ بنایا۔

شہد عادی کے مطابق حالیہ ملاقات کے دوران خواتین قیدیوں کو انتہائی تذلیل آمیز حالت میں پیش کیا گیا۔ ان کے بقول ایک قیدی کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے استعمال شدہ سیاہ پلاسٹک بیگ سے ڈھانپا گیا، جبکہ دوسری قیدی کو پرانے طبی ماسک کے ذریعے ڈھانپا گیا، جسے کئی بار استعمال کیا جا چکا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دو رات قبل نصف شب کے وقت اسرائیلی جبر دستوں نے ڈیمون جیل کے کمروں نمبر 6، 7 اور 8 پر چھاپہ مارا، جب خواتین قیدی نماز تہجد ادا کر رہی تھیں۔ عادی کے مطابق اہلکاروں نے قیدیوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھیں، انہیں زمین پر گرایا اور کمروں سے قرآن پاک کے نسخے قبضے میں لے لیے۔

انہوں نے اپنی گرفتاری کے بعد پیش آنے والے مبینہ تشدد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہیں سرد موسم میں جبری طور پر حجاب نما لباس (جلابیب) اتارنے پر مجبور کیا گیا اور تضحیک آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔

شہد عادی نے ڈیمون جیل میں خراب حالاتِ زندگی، مناسب لباس کی عدم فراہمی اور طبی سہولیات کی کمی کا بھی ذکر کیا، جس کے باعث کئی خواتین قیدی جلدی بیماریوں اور الرجی کا شکار ہو رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بعض خواتین قیدیوں، جن میں شیرین، ندا اور آیا شامل ہیں، کو من مانی طور پر تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

شہد عادی نے 13 مئی کو خواتین قیدیوں پر ہونے والے بڑے حملے کو ایک "ڈراؤنا خواب” قرار دیا۔ ان کے مطابق اسرائیلی اہلکار پولیس کتوں اور صوتی بموں کے ساتھ جیل کے حصوں میں داخل ہوئے، قیدیوں پر ہتھیار تان کر انہیں خوفزدہ کیا اور توہین آمیز رویہ اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ رات کے وقت قیدی خواتین پر کتوں کو چھوڑنا اور خوف و ہراس پھیلانا معمول کا حصہ بن چکا ہے۔

شہد عادی نے اپنے اہل خانہ کے لیے محبت اور سلامتی کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سخت حالات کے باوجود ان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ خیریت سے ہیں۔

Tags: Freedom of ReligionHuman RightsisraelIsraeli PrisonspalestinePalestinian detaineesPalestinian PrisonersPrison Conditionsreligious rights
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.