• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
پیر 6 جولائی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

عراقی حاکمیت کو مفلوج کرنے کی امریکی سازش

حالیہ دنوں عراق کی سیاست اور داخلی سلامتی ایک بار پھر اس نازک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں ملکی اداروں کو بظاہر احتساب اور قانون کی بالادستی کے نام پر استعمال کر کے ایک خوفناک سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

پیر 06-07-2026
in خاص خبریں, مقالا جات
0
عراقی حاکمیت کو مفلوج کرنے کی امریکی سازش
0
SHARES
0
VIEWS

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) حالیہ دنوں عراق کی سیاست اور داخلی سلامتی ایک بار پھر اس نازک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں ملکی اداروں کو بظاہر احتساب اور قانون کی بالادستی کے نام پر استعمال کر کے ایک خوفناک سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ بغداد کے گرین زون اور دیگر حساس علاقوں میں حالیہ دنوں میں ہونے والی درجنوں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، اراکینِ پارلیمنٹ اور سیاسی رہنماؤں کی اچانک گرفتاریاں محض انسدادِ کرپشن مہم کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ اس کے پیچھے کارفرما عوامل اور حالیہ امریکی مداخلت اس بات کی واضح عکاسی کرتی ہے کہ یہ بغداد حکومت کی جانب سے واشنگٹن کی ڈکٹیشن پر کھیلا جانے والا ایک خطرناک کھیل ہے۔

اگرچہ بدعنوانی کا خاتمہ کسی بھی خود مختار ملک کی بنیادی ضرورت ہوتا ہے، لیکن جب یہ مہم مخصوص سیاسی مقاصد، بیرونی اشاروں اور خاص طور پر عراق میں صیہونی و امریکی جارحیت کے خلاف سینہ تان کر کھڑی ہونے والی اسلامی مزاحمت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کی جائے، تو یہ احتساب نہیں بلکہ ملک کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف بن جاتا ہے۔

حالیہ دنوں جو کچھ عراق میں انجام دیا جا رہاہےاس بارے میں دنیا بھر کے سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت امریکی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ یہ مہم ٹھیک اسی مہم کا تسلسل ہے جسے لبنان مٰں واشنگٹن معاہدہ کے بعد حزب اللہ کے خلاف شروع کیا گیا ہے۔ امریکی حکومت نے بیک وقت لبنان حکومت کی سہولت کاری کے ذیعہ حزب اللہ پر شب خون مارنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ساتھ عراق میں بھی مزاحمت یعنی حشد الشعبی اور دیگر مزاحمتی دھڑوں کو کمزور اور ختم کرنے کے لئے عراقی حکومت کے ذریعہ نام نہاد انسداد کرپشن مہم کے ذریعہ گرفتاریوں کا سلسلہ شرو ع کروا دیا ہے تا کہ مزاحمت کے حامی افراد کو دیوار سے لگا کر بعد ازاں مزاحمت پر حملہ کیا جائے ۔

حالیہ حقائق اور زمینی شواہد اس سازش کے تانے بانے کو مکمل طور پر بے نقاب کرتے ہیں۔ بغداد میں ہونے والی یہ ڈرامائی گرفتاریاں عراقی وزیرِ اعظم علی الزیدی اور امریکی صدر کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک (Tom Barrack) کے مابین ہونے والی حالیہ اہم ملاقات کے فوراً بعد عمل میں لائی گئیں۔ عراقی عوام اور سیاسی حلقے یہ سوال اٹھانے میں بالکل حق بجانب ہیں کہ آخر واشنگٹن کے مہرے کی آمد کے فوراً بعد ہی ان رہنماؤں کو کیوں نشانہ بنایا گیا جو مستقل طور پر عراق سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے؟

ان گرفتاریوں کی آڑ میں خاص طور پر ان شیعہ جماعتوں اور رہنماؤں کو ہدف بنایا گیا ہے جو نظریاتی اور سیاسی طور پر مزاحمتی بلاک کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی چھٹیوں کا فائدہ اٹھا کر، جہاں اراکینِ پارلیمنٹ کی سیاسی قوتِ مدافعت کمزور ہوتی ہے، عراقی سیکیورٹی اداروں کو اپنے ہی سیاسی نظام کے خلاف صف آرا کرنا درحقیقت عراقی عوام کے سیاسی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔

اس سازش کا ایک بڑا اور اہم ترین ہدف عراق اور برادر اسلامی ملک ایران کے مابین موجود گہرے، برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو سبوتاژ کرنا ہے۔ ایران نے ہر مشکل وقت میں، بالخصوص داعش (ISIS) کے بدترین فتنے کے خلاف جنگ میں عراقی حاکمیت کا ساتھ دیا اور اپنے عظیم سپہ سالاروں کے خون کا نذرانہ پیش کر کے عراق کی ارضی سالمیت کو بچایا۔ایران کے سب سے اعلی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی بھی بغداد میںعراقی کمانڈر ابو مہدی المہندس کے ہمراہ امریکی جارحیت کا نشانہ بن کر شہید ہوئے تھے۔ نہ صرف یہ بلکہ عراق کے عوام اور نوجوانوںنے بڑی تعداد میںعراق کی حاکمیت اور خودمختاری کے لئے زندگیاں قربان کی ہیں۔

امریکہ اور اس کے صیہونی اتحادی غرب ایشیاء میں ایران اور عراق کے مضبوط گٹھ جوڑ اور مزاحمتی فرنٹ کی پے در پے کامیابیوں سے خوفزدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ گرفتاریوں کو جان بوجھ کر ایرانی تیل کی مبینہ اسمگلنگ یا پابندیوں کی خلاف ورزی جیسے من گھڑت امریکی الزامات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، تاکہ بغداد اور تہران کے اقتصادی و سیاسی روابط میں خلیج پیدا کی جا سکے اور امریکہ عراق کو ایک بار پھر تنہائی کا شکار کر کے اپنی کٹھ پتلی ریاست بنا سکے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے سنہ 2003ء سے مسلسل عراق میں فوجی کاروائی کے نتیجہ میں ایک لاکھ سے زائد عراقی شہریوں کو قتل کیا ہے لیکن حیرت انگیز با ت ہے کہ موجودہ وزیر اعظم علی الزیدی نے امریکی صدر ٹرمپ اور اس کے نمائندہ ٹام براک کی باتوں پر یقین کر لیا ہے اور عراق کی وحدت اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے منصوبہ پر عمل پیر اہے۔

کسی بھی خود مختار عراقی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ واشنگٹن کے انوکھے مطالبات کے آگے جھکنے کے بجائے تہران کے ساتھ اپنے سیکیورٹی اور معاشی مفادات کو ترجیح دے، کیونکہ خطے کا امن بیرونی قوتوں کے مرہونِ منت نہیں بلکہ علاقائی یکجہتی سے جڑا ہوا ہے۔ایران عراق کا صرف ہمسایہ ہی نہیں بلکہ برادر اسلامی ملک ہے اور ہر مشکل ترین وقت میں ایران نے عراق کی مدد کی ہے۔

وزیرِ اعظم علی الزیدی کی حکومت کی جانب سے امریکی دباؤ کے سامنے اس طرح گھٹنے ٹیکنا اور ملکی اداروں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنا عراق کی داخلی وحدت کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا۔ عراق پہلے ہی طویل عرصے تک فرقہ وارانہ لہروں، دہشت گردی اور معاشی بحرانوں کا شکار رہا ہے، اور اب جب ملک بتدریج سیاسی استحکام کی طرف بڑھ رہا تھا، اس قسم کے یکطرفہ اور مشکوک اقدامات ملک کو ایک نئی سیاسی خانہ جنگی اور عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل سکتے ہیں۔

امریکہ کا اصل مقصد عراق میں کرپشن کا خاتمہ یا گڈ گورننس کا قیام نہیں ہے، بلکہ وہ عراق کی مزاحمت اور سیاسی قوتوں کو مفلوج کرنا چاہتا ہے جو عراق کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور ان کی من مانیوں کے خلاف مسلسل برسرِ پیکار ہیں۔ عراقی فوج اور انسدادِ دہشت گردی کے دستوں (CTS) کو ملکی دفاع مضبوط کرنے کے بجائے اپنے ہی سیاست دانوں اور مزاحمتی دھڑوں کے خلاف استعمال کرنا ریاست کو اندرونی طور پر کھوکھلا کرنے کی گہری سازش ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی بغداد کے حکمرانوں نے امریکی صدور کے جھوٹے وعدوں اور دعووں پر یقین کیا، عراق کو صرف تباہی، مہاجرت اور خودمختاری کی پامالی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ موجودہ عراقی حکومت کا یہ اقدام عراقی عوام کی قربانیوں، شہدائے مقاومت کے خون اور ملکی غیرت کا سودا کرنے کے مترادف ہے۔عراق کے غیور عوام، سیاسی شعور رکھنے والی تمام اکائیاں اور غیور مزاحمتی تحریکیں واشنگٹن کے اس نئے منصوبے کو بھانپ چکی ہیں۔ بغداد، نجف، کربلا اور بصرہ کے عوام کا پیغام واضح ہے کہ بیرونی ڈکٹیٹرز کے اشاروں پر ملک کی خودمختاری اور مزاحمتی بلاک کے خلاف کوئی بھی کارروائی قبول نہیں کی جائے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس ذلت آمیز سیاسی تھیٹر کو بند کرے، امریکی مداخلت کا راستہ روکے اور ملک کی بقا و سلامتی کے لیے داخلی یکجہتی اور ایران جیسے سچے پڑوسیوں کے ساتھ اسٹریٹجک روابط کو مزید مستحکم کرے۔

Tags: Baghdadforeign policyGeopoliticsIraqIraq PoliticsIraqi SovereigntyMiddle EastNational SovereigntyUnited StatesUS Policy
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.