مقبوضہ غرب اردن – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہودی آباد کاروں کی ملیشیاؤں نے مقبوضہ غرب اردن کے مختلف علاقوں میں حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے، جس کا نشانہ اسلامی مقدسات، گھر، املاک اور زرعی زمینیں بنی ہیں۔ یہ حملے ان زمینی اقدامات کے ساتھ متوازی جاری ہیں جن کا مقصد یہودی آباد کاری کے اثر و رسوخ کو وسیع کرنا اور زمین پر نئے حقائق مسلط کرنا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصٰی کے صحنوں میں گھس کر تلمودی رسومات ادا کیں، جبکہ دوسرے گروپ نے شہر کے مشرق میں واقع ’المہتوش‘ بدو قبائل کے اجتماع کے قریب فلسطینیوں کے گھروں اور زرعی تنصیبات کے نزدیک پانی کی لائن بچھانے کا کام شروع کر دیا۔
شمالی وادی اردن میں یہودی آباد کاروں نے طوباس کے جنوب مشرق میں ’خربۃ الرأس الاحمر‘ میں فلسطینی رہائش گاہوں پر حملہ کیا، ان کا سامان توڑ پھوڑ کیا اور نگرانی کرنے والے کیمروں کے نظام کو تباہ کر دیا۔ اسی علاقے میں انہوں نے ایک اور رہائش گاہ پر بھی دھاوا بولا۔
نابلس میں یہودی آباد کاروں نے شہر کے جنوب میں بیتا قصبے کے علاقے ’الحرائق‘ میں ایک گھر پر حملہ کیا، جبکہ مشرق میں بیت فوریک کے زرعی میدانوں میں اشتعال انگیز چکر لگائے۔ انہوں نے قصرہ قصبے میں ایک گھر کا محاصرہ کیا اور اس میں گھسنے کی کوشش کی۔
رام اللہ اور البیرہ گورنری میں یہودی آباد کاروں نے المغیر اور ابو فلاح قصبوں کے درمیان ’مرج سیع‘ کے علاقے میں شہریوں پر حملہ کیا، جس کے بعد قابض افواج نے اسی مقام پر متعدد شہریوں کو حراست میں لے لیا۔
اس کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں واقع ’الخان الاحمر‘ کے قریب ایک فلسطینی گاڑی کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ترمسعیا میں یہودی آباد کاروں نے زیر تعمیر عمارت پر دھاوا بولا، اس پر قابض ریاست کا جھنڈا لہرایا اور مالکان کو وہاں جانے سے روک دیا۔
یہودی آباد کاری کو بڑھانے کے مقصد سے آباد کاروں نے رام اللہ کے مشرق میں ’تل العاصور‘ کے علاقے میں ایک نیا خیمہ نصب کیا، جبکہ الخلیل کے مشرق میں واقع قصبے ’بیرین‘ میں شہریوں کی زمینوں پر کھدائی کا کام کیا تاکہ حال ہی میں قائم کی گئی یہودی چوکی کو مزید وسیع کیا جا سکے۔ یہ تمام کارروائیاں فلسطینی زمینوں پر مسلسل قبضے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
الخلیل اور سلفیت میں بھی اضافی حملے دیکھنے میں آئے، جن میں السموع کے مشرق میں ’خربۃ الخرابہ‘ کے کسانوں کی فصلوں کی چوری، کفر الدیک (مغربی سلفیت) میں کسانوں کی زمینوں پر خیمہ نصب کرنا، اور برووقین قصبے کے مشرقی علاقے میں شہریوں کے گھروں پر دھاوے شامل ہیں۔ یہ سب یہودی آباد کاروں کے ان مسلسل حملوں کی عکاسی کرتا ہے جن کا مقصد فلسطینیوں کا جینا دوبھر کرنا اور ان کی اپنی زمینوں پر ان کے وجود کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
فلسطینی حلقوں کی جانب سے غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور مزاحمت کو تیز کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر اپیلیں کی گئی ہیں۔