غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے فلسطینی اسیران اور قیدیوں کے خلاف تشدد اور منظم خلاف ورزیوں کے الزامات میں قابض اسرائیل کی قیادت پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انہیں سزا سے بچنے نہ دیا جائے اور اسیران کے تحفظ اور ان کی رہائی کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔
جماعت نے تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر، جو اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال 26 جون سنہ 2026ء کو منایا جاتا ہے، ایک پریس بیان میں کہا کہ یہ دن ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیلی عقوبت خانوں کے اندر فلسطینی اسیران اور قیدیوں کے خلاف منظم خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان خلاف ورزیوں میں نفسیاتی اور جسمانی تشدد، علاج، ملاقات اور خوراک سے محرومی کے ساتھ ساتھ تنہائی میں قید اور ہزاروں اسیران کے ساتھ غیر انسانی حالات لاگو کرنا شامل ہے۔
جماعت نے اس بات پر زور دیا کہ تشدد کے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن اس بات کا موقع ہے کہ قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی اسیران اور قیدیوں کے خلاف اپنائی گئی تشدد کی پالیسی کو اجاگر کیا جائے، جو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
’حماس‘ نے اقوام متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں اور قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ فلسطینی اسیران اور قیدیوں کو رہا کرے۔
تحریک نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید ہزاروں فلسطینیوں کی قسمت کے بارے میں حقائق سامنے لانے، ان کے لواحقین کو ملاقات کی اجازت دینے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان کی صورتحال تک رسائی دینے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔
اپنے بیان کے آخر میں، تحریک نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی اسیران کے خلاف تشدد اور خلاف ورزیوں کے جرائم کے پس منظر میں اسرائیلی حکام کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات دائر کریں اور انہیں جوابدہ بنا کر سزا سے بچنے کے عمل کو روکیں۔