مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) سرکاری فلسطینی اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں سنہ 2026 کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی گولیوں اور حملوں کے نتیجے میں 70 شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کی وزارت صحت نے آج پیر کے روز ٹیلی گرام پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک مختصر بیان میں اعلان کیا کہ رواں سال کے آغاز سے آج صبح تک قابض فوج اور یہودی آباد کاروں کی فائرنگ سے شہید ہونے والوں کی کل تعداد 70 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 17 بچے، 5 خواتین اور دو معمر افراد شامل ہیں۔
ایک اور اپ ڈیٹ میں وزارت نے بتایا کہ انہیں جنرل اتھارٹی برائے شہری امور کی جانب سے اطلاع ملی ہے کہ آج فجر کے وقت بیت امر قصبے (شمالی الخلیل) میں قابض فوج کی فائرنگ سے 15 سالہ رضا سامی حسن عوض اور 19 سالہ عیسیٰ عرفات اسماعیل عوض شہید ہو گئے ہیں۔
یہ شہادتیں جنوبی مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے شمال میں واقع فلسطینیوں کی نجی زمینوں پر قائم "کرمی تسور” بستی کے قریب قابض فوج کی فائرنگ سے دو فلسطینی نوجوانوں کی شہادت اور دو کے زخمی ہونے کے واقعے کے بعد پیش آئی ہیں۔
مغربی کنارے کے شہروں اور قصبوں میں قابض فوج اور یہودی آباد کاروں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے دھاوے، قتل، گرفتاریاں، گھروں کی مسماری اور املاک و مقدسات کو نشانہ بنانے جیسے حملوں کے نتیجے میں کشیدگی کی کیفیت مسلسل برقرار ہے۔
اس تناظر میں ’باڈی فار ریزسٹنس ٹو وال اینڈ سیٹلمنٹ‘ (دیوار اور بستیوں کے خلاف مزاحمتی کمیٹی) نے گذشتہ ماہ مئی کے دوران 1659 حملوں کی دستاویزی رپورٹ جاری کی تھی، جن میں سے 1108 حملے قابض فوج نے کیے اور 551 حملے یہودی آباد کاروں نے کیے تھے۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023 سے مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 1171 فلسطینی شہید ہوئے ہیں، جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں، جبکہ 12 ہزار 666 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 23 ہزار شہریوں کو گرفتار اور 33 ہزار کو بے گھر کر دیا گیا ہے۔