الخلیل – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) الخلیل سے تعلق رکھنے والی فلسطینی اسیرہ اور سیاسی کارکن پچاس سالہ لما خاطر نے قابض اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیر خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم، گھسیٹنے، برہنہ تلاشی، تشدد اور بدترین سلوک کی ہولناک تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے۔
خاطر نے اپنے وکیل سے جو ان سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوا، بتایا کہ انہیں 23 مارچ سنہ2026ء کی صبح الخلیل میں ان کے گھر پر دھاوا بول کر گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں المسکوبیہ جیل منتقل کیا گیا جسے انہوں نے جہنم سے تعبیر کیا، جہاں جیل کی محافظوں نے مکمل برہنہ تلاشی لینے کے بعد ان پر شدید تشدد کیا۔
المسکوبیہ کے غسل خانے میں مار پیٹ اور تشدد کے بعدانہیں ایک انتہائی تاریک اور ٹھنڈی کوٹھری میں پھینک دیا گیا، ان کا حجاب زبردستی چھین لیا گیا، انہیں گالیاں دی گئیں، ان کے بستر پر پانی پھینکا گیا اور ان کا چشمہ ضبط کر لیا گیا۔
قابض افواج اسی پر بس نہیں ہوئیں، بلکہ اسیرہ لما خاطر کو دیگر اسیر خواتین کے ساتھ زنجیروں میں جکڑ کر انہیں سر جھکا کر اور دیوار کی طرف منہ کر کے گھٹنوں کے بل بیٹھنے پر مجبور کیا گیا، اس سے قبل کہ جیل کی ظالم فورس (نحشون) نے انہیں زنجیروں میں جکڑے ہوئے فرش پر گھسیٹا۔
رملہ کی المناک رات
رملہ جیل میں بھی حالات اس سے بہتر نہ تھے۔ اسیرہ خاطر کو ایک ایسی کوٹھری میں تنہا رکھا گیا جہاں غسل خانے تک میں کیمروں سے نگرانی کی جاتی تھی، کوٹھری حشرات الارض سے بھری ہوئی تھی اور انہیں سارا وقت لوہے کی ایک سخت سیٹ پر بیٹھنا پڑتا تھا۔
رملہ کی اس رات کو جسے انہوں نے المناک قرار دیا خاطر کو دامون جیل منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کے ساتھ مزید ظلم ہوا۔ تمام اسیر خواتین کی زبردستی برہنہ تلاشی لی گئی، انہیں ہاتھ پیچھے باندھ کر جیل کے صحن میں لایا گیا، انہیں گھٹنوں کے بل بیٹھنے پر مجبور کیا گیا اور جیل کے صحن میں گھسیٹا گیا، جس سے انہیں آج تک جاری رہنے والی تکلیف کا سامنا ہے۔
منصوبہ بند نشانہ بازی
اسیرہ خاطر نے بتایا کہ انہیں زیادہ تر دنوں میں بلاوجہ سزا دی جاتی ہے، انہیں 10 دن تک جیل کے صحن (فورہ) میں جانے سے محروم رکھا جاتا ہے اور اس دوران شدید تشدد، صوتی بموں اور شکاری کتوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض افواج جان بوجھ کر اسیر خواتین کی آنکھوں پر پٹیاں باندھتی ہیں، ان کے ہاتھ پیچھے باندھ کر انہیں منہ کے بل زمین پر گرا دیتی ہیں اور جیل کی محافظ خواتین ان پر اپنے جوتوں سے پاؤں رکھتی ہیں، جبکہ انہیں جوتے پہننے سے بھی منع کیا جاتا ہے۔
ظلم اور محرومی
اسیرہ لما خاطر دامون جیل کے کمرہ نمبر ۹ میں مقید ہیں، ان کے ہمراہ آمنہ، آیات سویلم، ام البراء عیاش، سلام منصور، نیوین عبداللہ، فاتنہ الشرباتی، شہد عادی، بشری قواریق اور نائلہ سرادیح جیسی اسیر خواتین ہیں۔
اسیر خواتین جیل کے کمروں کے اندر شدید گنجائش سے زیادہ بھیڑ کا شکار ہیں، انہیں زمین پر سونے پر مجبور کیا جاتا ہے، حاملہ اسیر خواتین کی حالت انتہائی خراب ہے، جیل کی محافظ خواتین ان کے کپڑے ضبط کر لیتی ہیں اور انہیں غسل کرنے سے محروم رکھا جاتا ہے۔
تشدد، تذلیل اور گھسیٹنے کے علاوہ، اسیرہ خاطر نے تصدیق کی کہ اسیر خواتین بھوکی سوتی ہیں کیونکہ کھانا بہت کم ہے؛ ناشتہ صرف (دو چمچ دہی + ایک چمچ جام) پر مشتمل ہوتا ہے، دوپہر کا کھانا (۸ چمچ چاول + چنے یا دال) ہوتا ہے، اور رات کا کھانا (ایک انڈا + دو چمچ دال / چٹنی اور کبھی کبھار تھوڑا سا شوربہ) ہوتا ہے اور اسیر خواتین مغرب تک کھانا اکٹھا کرتی ہیں تاکہ اسے کھا سکیں۔
اسیرہ لما عبدالمطلب ذیب خاطر، پانچ بچوں (یحییٰ، عزالدین، یمان، بیسان اور اسامہ) کی ماں اور حازم کی دادی ہیں، وہ ایک سیاسی تجزیہ کار، میڈیا پرسن اور الخلیل یونیورسٹی کے کالج آف آرٹس سے عربی زبان میں بیچلر ڈگری یافتہ ہیں۔ وہ فلسطینی مزاحمت کی حامی اپنی تحریروں کے لیے جانی جاتی ہیں۔