واشنگٹن – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکی کانگریس کے بیالیس ارکان نے امریکی محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس رقم کا حجم ظاہر کرے جو قابض اسرائیل کی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع پر خرچ کرتی ہے۔ یہ اقدام امریکی قانون ساز حلقوں کے اندر یہودی بستیوں کی پالیسیوں کے حوالے سے شفافیت اور احتساب بڑھانے کے بڑھتے ہوئے مطالبات کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ مطالبہ ارکان کی جانب سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھیجے گئے ایک خط میں کیا گیا، جس میں انہوں نے برسوں پرانے امریکی قانون کی دفعات کو فعال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ قانون امریکی انتظامیہ کا پابند بناتا ہے کہ وہ یہودی بستیوں کی سرگرمیوں پر قابض اسرائیل کے اخراجات اور قابض اسرائیل کو فراہم کی جانے والی امریکی قرضوں کی ضمانتوں کے پروگراموں پر اس کے اثرات کے بارے میں وقتاً فوقتاً رپورٹس پیش کرے۔
دستخط کنندگان نے امریکی قانون کی دفعہ (22 U.S.C. § 2186) کا حوالہ دیا، جو محکمہ خارجہ پر لازم کرتی ہے کہ وہ کانگریس کے لیے سالانہ رپورٹ تیار کرے جس میں یہودی بستیوں پر قابض اسرائیل کے سرکاری اخراجات کے تخمینے شامل ہوں۔ تاہم، ارکان نے نشاندہی کی کہ یہ اعداد و شمار ایک دہائی سے زائد عرصے سے باقاعدگی سے شائع نہیں کیے گئے ہیں۔
کانگریس کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ سنہ ۲۰۱۳ء سے تمام مالی سالوں کا احاطہ کرنے والا تفصیلی ڈیٹا فراہم کیا جائے، اس کے ساتھ ان میکانزم اور معیارات کی وضاحت کی جائے جن پر امریکی انتظامیہ یہودی بستیوں کے منصوبے سے متعلق اخراجات کے حجم کا حساب لگاتے وقت عمل کرتی ہے۔
دستخط کنندگان نے اس بات پر زور دیا کہ اس معلومات کی عدم موجودگی نے کانگریس کو مؤثر طریقے سے اپنا نگران کردار ادا کرنے سے محروم کر دیا ہے، اور یہودی بستیوں کی توسیع کے اصل اخراجات کو عوامی جانچ اور احتساب سے دور رکھا ہے۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی سرگرمیاں نمایاں طور پر تیز ہو رہی ہیں، جبکہ سیاسی تصفیے کے مواقع اور دو ریاستی حل کے مستقبل پر اس کے اثرات کے بارے میں انتباہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
’نیو جیوش نیریٹو‘ نامی تنظیم کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، سنہ ۲۰۲۵ء میں ۸۶ نئی غیر قانونی یہودی بستیاں قائم کی گئیں، اس کے علاوہ ۵۴ بستیوں کی سرکاری طور پر منظوری دی گئی، جبکہ قابض اسرائیل کی حکومت نے یہودی بستیوں میں تقریباً ۳۰ ہزار نئے رہائشی یونٹس بنانے کے منصوبوں کو آگے بڑھایا ہے۔
اعداد و شمار نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک ۶۲۰۰ سے زائد اضافی یونٹس کی منظوری دی گئی ہے، جسے انسانی حقوق اور بین الاقوامی تنظیمیں مغربی کنارے میں حالیہ برسوں کی سب سے بڑی توسیع قرار دے رہی ہیں۔
’نیو جیوش نیریٹو‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ہدار سوسکینڈ نے کہا کہ قابض اسرائیل کی حکومت مغربی کنارے پر مستقل کنٹرول کو مستحکم کرنے کے مقصد سے بے مثال رفتار سے بستیاں تعمیر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی رائے عامہ کا یہ حق ہے کہ وہ ان وسائل کے حجم کو جانے جو ایک ایسے منصوبے کے لیے مختص کیے جا رہے ہیں جس کے ناقدین کے نزدیک یہ دو ریاستی حل پر مبنی سیاسی تصفیے کے مواقع کو تباہ کر رہا ہے۔
محکمہ خارجہ کو بھیجا گیا یہ خط کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے حلقوں میں بڑھتے ہوئے اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے جو امریکی امداد اور ضمانتوں کو یہودی بستیوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اعلیٰ سطح کی شفافیت سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قابض اسرائیل کی پالیسیوں اور تصفیے کے عمل و خطے کے استحکام پر ان کے اثرات پر بڑھتی ہوئی تنقید کے تناظر میں۔