• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
منگل 16 جون 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی مفاہمت، واشنگٹن پسپا ہو گیا

چونکہ ایران نے اپنے میزائل پروگرام اور اتحادیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، اس لیے امریکی خلاف ورزی کی صورت میں لبنان، یمن، عراق اور شام میں موجود مزاحمتی گروپ زیادہ جارحانہ انداز میں ابھریں گے۔

پیر 15-06-2026
in خاص خبریں, مقالا جات
0
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی مفاہمت، واشنگٹن پسپا ہو گیا
0
SHARES
6
VIEWS

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی مفاہمتی دستاویز پر 14 جون کو دستخط کر دئیے گئے ہیں۔ ایران کے سرکاری ذرائع نے بھی اس مرتبہ اس عمل کی تصدیق کی اور بتایا گیا کہ یہ مفاہمتی دستاویز 14 نکات پر مشتمل ہے جس میں آئندہ 30 اور 60 روز میں مرحلہ وار عمل کیا جائے گا۔اس عنوان سے اگر ایک خلاصہ کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکہ کی طرف سے مسلط کی گئی دہشتگردانہ جنگ اور پھر سفارتی دبائو جیسے تمام حربے ناکام ہو گئے اور آخر کار ایران نے امریکہ کو ایک ایسی مفاہمت کی قرا رداد پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جس کےبارے میں کئی ماہ سے کہا جا رہاتھا۔ یعنی اگر یہ کہا جائے کہ ایران نے جنگ اور سفارتکاری کے میدان میں امریکہ کا غرور خاک میں ملا دیا۔ امریکہ مزید سپر پاور نہیں رہا تو بالکل درست ہو گا۔

مغربی ایشیاء کی سیاست میں حالیہ سفارتی اور تزویراتی تبدیلیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات میں اصل اہمیت اخلاقیات کی نہیں، بلکہ طاقت کے توازن اور پتے درست طریقے سے کھیلنے کی ہوتی ہے۔ جہاں ایک طرف لبنانی حکام نے طویل عرصے تک محض امریکی یقین دہانیوں پر تکیہ کر کے پیشگی رعایتیں دیں اور بدلے میں اسرائیل کے مسلسل حملوں اور سفارتی ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہ کر سکے، وہاں دوسری طرف ایران نے اپنی عسکری، سیاسی اور مذاکراتی طاقت کا ایسا ماسٹر کلاس مظاہرہ کیا ہے جس نے واشنگٹن کو ان حقائق کو تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا جنہیں وہ پہلے مسترد کرتا آیا تھا۔
سامنے آنے والے حالیہ مذاکراتی مسودے کے چونکا دینے والے نکات نے بین الاقوامی مبصرین کو حیران کر دیا ہے، جو کہ ایران کی ایک بہت بڑی تزویراتی فتح کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس مجوزہ مسودے کے مندرجات بتاتے ہیں کہ ایران نے کس طرح امریکی دباؤ کو نہ صرف جھیلا بلکہ اسے اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے استعمال کیا۔ یہی ایران کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔اس مسودے کے تحت امریکی بحری ناکہ بندی کو30 دن کے اندر ختم کیا جائے گا، جبکہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد طویل مدتی پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔ یہ ایران کی معیشت کے لیے ایک بڑا بریک تھرو ہے۔

مسودے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی شامل ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن جو مہینوں سے لبنان کو ایران سے الگ تھلگ کر کے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔حالانکہ اس مسودے پر دستخط سے قبل غاصب صیہونی گینگ اسرائیل نے لبنان کے دارلحکومت بیروت پر حملےکئے اور امریکہ کو پیغام دیا کہ اسرائیل اس مسودے کا احترام نہیں کرے گا لیکن یہی اسرائیل کی غلطی اسے الٹی پڑ گئی اور امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایک مرتبہ پھر فون کال پر اپنی گالیوں سے نواز تے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ تمھارے پیچھے سے ہٹ جائے تو تم دو گھنٹوں میں ختم ہو جائو گے۔ امریکی صدر کو نیتن یاہو کو یہ بتانا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ امریکہ خطے میں حماس، حزب اللہ اور انصار اللہ سمیت ایران اور عراق کی مزاحمتی قوت کو تسلیم کرتاہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے مفاہمتی مسودے میں سب سے حیران کن نقطہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم300 ارب ڈالر فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ یہ رقم ایک طرح سے تہران کے اس بیانیے کی فتح ہے کہ پابندیوں سے ایرانی عوام کا معاشی استحصال کیا گیا۔

اس حتمی ایران امریکہ معاہدے کو محض ایک سیاسی وعدہ نہیں رہنے دیا گیا، بلکہ اس کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی تاکہ اسے بین الاقوامی قانونی تحفظ مل سکے۔

ایران اپنے اصولی موقف پر قائم رہا؛ چنانچہ حتمی معاہدے میں ایران کا میزائل پروگرام اور مزاحمتی گروپوں کی حمایت سے دستبرداری شامل نہیں ہے۔ یعنی تہران نے اپنی دفاعی اور علاقائی طاقت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
مذاکرات کے دوران ہی ایران کے 24ارب ڈالر کے منجمد اثاثے فوری طور پر جاری کیے جائیں گے، جو ایران کے مالیاتی دباؤ کو فوری طور پر کم کرے گا۔

اس پورے منظر نامے میں پاکستان کے سفارتی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششیں انتہائی قابلِ تعریف رہی ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور تنازعات کے پرامن حل کی وکالت کی ہے۔موجودہ صورتحال میں پاکستان نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کیا، بلکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطوں اور سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے میں اہم معاونت فراہم کی۔ پاکستان کی اس مدبرانہ سفارت کاری نے ثابت کیا کہ وہ خطے میں کسی بھی بلاک کی سیاست کا حصہ بنے بغیر، ایک غیر جانبدار اور امن پسند سہولت کار کے طور پر اپنا لوہا منوا سکتا ہے۔ پاکستان کی ان کوششوں کی بدولت ہی خطے کو ایک وسیع تر جنگ کی دلدل میں گرنے سے بچانے میں مدد ملی۔

اگر چہ یہ مسودہ تیار کر لیا گیاہے اور جنگ بندی سمیت مذاکرات کی طرف اقدام اٹھانے کے لئے مثبت گفتگو کی جا رہی ہے لیکن امریکی حکومت کی تاریخ ناقابل اعتماد ہے اور امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ یہ مسودہ ایران کی بہت بڑی سفارتی جیت ہے، لیکن امریکہ کی ماضی کی تاریخ (خصوصاً 2018 میں جے سی پی او اے سے یکطرفہ انخلا) کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال برقرار رہتا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو نئی سیاسی مساوات کیا ہوگی؟

اگر واشنگٹن سلامتی کونسل کی قرارداد سے منظور شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو بین الاقوامی برادری میں اس کی سفارتی ساکھ کو ایسا دھچکا لگے گا جس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔ یہ اقدام عالمی طاقت کے توازن کو تیزی سے بیجنگ اور ماسکو کی طرف دھکیلے گا، اور دنیا امریکی بالادستی کے دور سے مستقل طور پر باہر نکل جائے گی۔

معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں ایران کے پاس تمام سفارتی تحفظات ختم ہو جائیں گے۔ تہران سیکیورٹی گارنٹی کے طور پر اپنے جوہری پروگرام کو اس حد تک تیزی سے آگے بڑھا سکتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی۔ یہ خطے میں ڈیٹرنس کی نئی مساوات قائم کرے گا۔

چونکہ ایران نے اپنے میزائل پروگرام اور اتحادیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، اس لیے امریکی خلاف ورزی کی صورت میں لبنان، یمن، عراق اور شام میں موجود مزاحمتی گروپ زیادہ جارحانہ انداز میں ابھریں گے۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے خطے میں فوجی قیمت اتنی بڑھ جائے گی جسے برداشت کرنا واشنگٹن کے بس میں نہیں رہے گا۔

امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی صورت میں ایران، چین اور روس کے ساتھ مل کر ڈالرشکن پالیسی کو تیز کر دے گا۔برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے ایران اپنی معیشت کو امریکی مالیاتی نظام کے اثرات سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر لے گا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ عالمی سیاست کی میز پر انعام ان کو نہیں ملتا جو کمزوری دکھاتے ہیں یا محض خیرات کی امید پر رعایتیں دیتے ہیں (جیسا کہ لبنانی حکام نے کیا)، بلکہ انعام ان کا ہوتا ہے جو طاقت کے توازن کو اپنے حق میں کرنا جانتے ہیں۔ ایران نے اپنی مزاحمت اور حکمتِ عملی سے یہ جنگ جیت لی ہے، اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے؛ جہاں اس کا ہر غلط قدم خود اس کی اپنی عالمی پوزیشن کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

Tags: CeasefireDiplomacyGeopoliticsIranMiddle EastUnited States
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.