نیو یارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے 62 ارکان نے امریکہ کے صدر کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ فلسطینی مریضوں کے علاج تک رسائی پر عائد ظالمانہ پابندیاں ختم کی جائیں اور اس طبی راہداری کو دوبارہ کھولا جائے جو قطاع غزہ کے سسکتے ہوئے مریضوں کو مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کے ہسپتالوں میں طبی نگہداشت حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتی تھی۔
یہ مطالبہ ارکانِ پارلیمنٹ کی طرف سے امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو بھیجے گئے ایک خط میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جاری وحشیانہ جنگ کے نتیجے میں طبی شعبے کی مکمل تباہی کے باعث قطاع غزہ میں ہزاروں مظلوم مریض انتہائی تشویشناک اور نازک طبی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
خط پر دستخط کرنے والے ارکان نے واضح کیا کہ 18,500 سے زائد مجبور فلسطینیوں کو فوری اور خصوصی طبی امداد کی اشد ضرورت ہے جو اس وقت محصور قطاع کے اندر سرے سے موجود ہی نہیں ہے، ان مظلوموں میں لگ بھگ 11 ہزار کینسر کے مریض بھی شامل ہیں، یہ ہولناک صورتحال ایک ایسے وقت میں ہے جب غزہ کے 94 فیصد ہسپتالوں کو صیہونی سفاکیت کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ یا شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے جس کے باعث تشخیص اور علاج کی بیشتر خدمات بشمول رسولی اور کینسر کے علاج کی سہولیات مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے مزید وضاحت کی کہ قابض اسرائیل دیگر ممالک میں طبی انخلا کے انتہائی محدود معاملات کی ہی اجازت دیتا ہے لیکن وہ مریضوں کو مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کے ہسپتالوں تک پہنچنے سے مسلسل روک رہا ہے، باوجود اس کے کہ یہ ہسپتال جغرافیائی طور پر انتہائی قریب ہیں اور ان بیماروں کے علاج معالجے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں، انہوں نے اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس سنگین صورتحال نے غزہ میں کینسر کے موذی مرض کو ہزاروں بے گناہ مریضوں کے لیے ایک طرح سے "حکمِ موت” میں تبدیل کر دیا ہے۔
اس مکتوب میں اس دردناک حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ طبی انخلا کی منظوری کے انتظار میں اب تک 1200 سے زائد مریض دم توڑ چکے ہیں، خط میں امریکہ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قطر، مصر اور ترکیہ کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ ان لاچار مریضوں کی منتقلی کو آسان بنا کر ان کے لیے لازمی علاج کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی کانگریس کے ارکان نے اس طبی راہداری کو مستقل طور پر دوبارہ کھولنے اور علاج کی تکمیل کے بعد مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی غزہ میں بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، نیز تباہ حال ہسپتالوں اور متاثرہ طبی بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر و بحالی کی کوششوں کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے بین الاقوامی انسانی قانون کے احکام کے تحت طبی مراکز اور صحت کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا اور مریضوں کے علاج تک رسائی کو مسلسل محدود رکھنے کے سنگین اور ہولناک انسانی نتائج سے بھی سخت خبردار کیا۔
اس خط پر دستخط کرنے والوں کی فہرست میں امریکی کانگریس کے متعدد نامور ارکان شامل ہیں، جن میں برنی سینڈرز، الزبتھ وارن، کرس وین ہولین اور ایڈ مارکی شامل ہیں، اس کے علاوہ ایوانِ نمائندگان کے ارکان رو کھنہ، پرمیلا جے پال، الہان عمر، گریگ کیسار، ڈیلیا راميرز، جان شاکوسکی اور شان کاسٹن بھی دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔