غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی فوج نے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سینیئر رہنما حسن یوسف کو غیر قانونی انتظامی حراست کے کٹھن 32 مہینے گزارنے کے بعد رہا کر دیا ہے، جبکہ طویل قید وبند کی صعوبتوں اور غاصب دشمن کی دانستہ نسل کشی کی پالیسیوں کے باعث ان کی جسمانی حالت انتہائی تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔
خاندانی ذرائع نے بتایا ہے کہ رہنما حسن یوسف جب قابض صہیونی عقوبت خانوں سے باہر آئے تو وہ شدید علالت کا شکار تھے۔ غاصب دشمن کے وحشیانہ تشدد کی وجہ سے ان کے بازو کے پٹھے بری طرح پھٹ چکے تھے، اس کے علاوہ طویل اسارت کے دوران بھوک اور سنگین مظالم کی وجہ سے ان کا وزن تقریبا 30 کلوگرام تک کم ہو چکا ہے۔
غاصب صہیونی سکیورٹی فورسز نے ممتاز رہنما حسن یوسف کو دو سال سے زائد عرصہ قبل اغوا کے انداز میں گرفتار کیا تھا اور انہیں غیر قانونی انتظامی حراست میں منتقل کر دیا تھا، جس کے بعد ان کی حراست کی مدت میں مسلسل پانچ مرتبہ توسیع کی گئی، یہ سفاکیت ان کی زندگی کے ان طویل برسوں کے علاوہ ہے جو انہوں نے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں مختلف اوقات میں گزارے اور جو مجموعی طور پر 25 سال سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔
ان کی اس تاریخی رہائی کے فوراً بعد، حرکہ حماس نے غیور فلسطینی عوام، ثابت قدم اسیران اور حسن یوسف کے سربکف خاندان کو ڈھائی سال سے زائد کی ظالمانہ انتظامی حراست کے بعد قابض صہیونی عقوبت خانوں سے آزادی پانے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔
حماس نے ایک پریس ریلیز میں پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ جلیل القد ر رہنما حسن یوسف فلسطین کا ایک عظیم قومی اور جدوجہد کا وہ درخشندہ استعارہ ہیں جو اپنی لازوال پختگی اور بے مثال استقامت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ حرکہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ انہوں نے اپنی زندگی کی دو دہائیوں سے زیادہ کا طویل عرصہ قابض صہیونی عقوبت خانوں کی تاریک کوٹھڑیوں میں گزارا، جہاں غاصب دشمن کی جانب سے تنہائی، انسانیت سوز تشدد اور مجرمانہ طبی غفلت کے باوجود انہوں نے اپنے اصولی موقف پر سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنے مظلوم عوام کے حقوق کا جرأت مندانہ دفاع کیا۔
حماس نے اپنے اس پختہ عہد کو دہرایا کہ غاصب دشمن کی قید میں موجود سرفروش اسیران کا معاملہ ہمیشہ ان کی اولین ترجیحات میں شامل رہے گا۔ حرکہ نے قابض اسرائیل کی جیلوں کے اندر جاری بدترین قمع، جبر اور وحشیانہ انتقامی پالیسیوں کے خلاف ڈٹ جانے والے صابر مرد اور خواتین اسیران کی لازوال استقامت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
حماس نے امتِ مسلمہ اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مظلوم فلسطینی اسیران کے مقدمے کی حمایت اور نصرت کے تمام راستوں کو وسیع کریں اور اسے عرب دنیا سمیت بین الاقوامی سطح پر بیدار رکھیں، جبکہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اسیران پر ڈھائے جانے والے صہیونی مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں اور ان کی تکالیف کے خاتمے اور فوری آزادی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کریں۔