خان یونس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ایک ایسے منظر میں جو غاصب دشمن کی وحشیانہ جنگ کے باوجود زندگی سے وابستگی اور والہانہ محبت کو مجسم کرتا ہے، خان یونس کے مغرب میں واقع مواصی کے علاقے نے ایک شاندار اجتماعی شادی کی تقریب کی میزبانی کی جس میں بلدہ خزاعہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہونے والے پناہ گزینوں کے 62 دولہا اور دلہنیں شامل تھے، یہ تمام افراد النجار خاندان کے چشم و چراغ ہیں، جو غزہ کی پٹی میں درپیش سخت ترین انسانی حالات کے درمیان ثابت قدمی اور امید کا ایک بے مثال پیغام ہے۔
اس پروقار تقریب کا انعقاد تباہی اور پیاروں سے محرومی کے گہرے زخموں سے چور ایک ایسے ماحول میں کیا گیا جہاں النجار خاندان اس وحشیانہ جنگ کے دوران اپنے تقریباً 200 شہدا کی لازوال قربانی دے چکا ہے، تاہم اس کے باوجود اس غیور خاندان نے اپنے بچوں کے لیے اس دوسری اجتماعی شادی کا انعقاد کر کے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا تاکہ زندگی گزارنے کے اٹل ارادے اور قابض دشمن کی سفاکانہ جارحیت کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے عزم کو دہرایا جا سکے۔
اس تقریب میں شریک ایک دولہا فوزی النجار نے آبدیدہ ہو کر بتایا کہ اس وحشیانہ جنگ نے ان سے ان کا سگا بھائی اور ان کا گھر چھین لیا ہے جیسے ہزاروں فلسطینیوں نے اپنے پیاروں اور اپنی املاک کو کھو دیا ہے، لیکن یہ گہرے صدمات انہیں امید کا دامن تھامنے اور زندگی کے سفر کو جاری رکھنے سے ہرگز نہیں روک سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس خوشی کی تقریب کا انعقاد اپنے اندر یہ گہرا پیغام رکھتا ہے کہ یہ ہولناک مصائب فلسطینیوں کے فولادی عزم کو توڑنے یا انہیں خوشی منانے کے ان کے جائز حق سے محروم کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے، اس موقع پر انہوں نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پٹی کو درپیش ان سخت ترین حالات کے سایہ تلے اس اجتماعی اقدام کو کامیاب بنانے میں حصہ لیا اور تعاون کیا۔
دوسری جانب بلدہ خزاعہ کے میئر شحدہ ابو روک نے اس بات پر زور دیا کہ ان غیر معمولی حالات میں شادی کی اس تقریب کا انعقاد اس قصبے کے غیور باشندوں کے لیے ثابت قدمی اور امید کا ایک روشن پیغام ہے جو وحشیانہ جنگ اور جبری جلاوطنی کے بھیانک اثرات کا مردانگی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ اس خوبصورت اقدام نے اس عظیم سانحے کے بیچ زندگی کی ایک نئی کھڑکی کھول دی ہے، اور انہوں نے النجار خاندان کے ساتھ ساتھ ان تمام اداروں اور افراد کے لیے گہری ستائش کا اظہار کیا جنہوں نے اس پروقار انسانی تقریب کو کامیاب بنانے میں اپنا فعال کردار ادا کیا۔
ابو روک نے واضح کیا کہ بلدہ خزاعہ جو چوتھی مرتبہ بڑے پیمانے پر ہولناک تباہی کا نشانہ بنا ہے، ان تمام تر بڑے نقصانات کے باوجود دوبارہ کھڑے ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، انہوں نے یقین دلایا کہ اس مٹی کے بیٹے زندگی سے چمٹے رہنے اور خوشیاں تخلیق کرنے کے سفر کو مسلسل جاری رکھیں گے کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ امید اس تباہی سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور زندہ رہنے کا پختہ ارادہ تمام مصائب پر غالب آ جاتا ہے۔