غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں وزارتِ صحت نےاعلان کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قابض اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کے نتیجے میں دو شہداء کے اجسادِ خاکی اور 40 زخمی غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں لائے گئے ہیں۔
وزارت نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ گذشتہ دس اکتوبر سے جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک شہداء کی کل تعداد 932 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 2859 تک پہنچ چکی ہے اور ملبے سے نکالے گئے اجسادِ خاکی کی تعداد 781 ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق شہداء کی تعداد بڑھ کر 72 ہزار 941 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 72 ہزار 967 تک جا پہنچی ہے۔
وزارتِ صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب بھی بہت سے مظلوم متاثرین ملبے کے نیچے اور راستوں پر پڑے ہوئے ہیں کیونکہ ایمبولینس کے عملے اور شہری دفاع کی ٹیمیں اس وقت تک ان تک پہنچنے سے بالکل قاصر ہیں۔
قابض اسرائیل کی سفاک افواج نے نازحین اور پناہ گزینوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے کی شدید بمباری کے ذریعے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہوا ہے، اس کے ساتھ ہی نام نہاد پیلی لائن کے اندر عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہی پھیلانے کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری طرف سامانِ تجارت، امداد کی ترسیل اور سفر کی نقل و حرکت پر غاصبانہ پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔