مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطین میں نسلی دیوار اور یہودی آباد کاری کےخلاف سرگرم کمیشن نے مقبوضہ مغربی کنارے کی متعدد یہودی یہودی بستیوں میں 2721 نئے استعماری یونٹس کی تعمیر کے غاصبانہ اسرائیلی منصوبے کا پردہ چاش کر دیا ہے۔
کمیشن نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ قابض اسرائیل کی سول ایڈمنسٹریشن کی ہائیر پلاننگ کونسل رواں ماہ بدھ تین جون سنہ 2026ء کو ایک اجلاس منعقد کرے گی جس میں نئے استعماری منصوبوں کے پیکیج پر بحث کی جائے گی۔ بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ ان منصوبوں میں مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی بستیوں میں کم از کم 2721 نئے استعماری یونٹس کی تعمیر کو آگے بڑھانا شامل ہے اور اس کے ساتھ ہی ایسے تنظیمی و ڈھانچہ جاتی منصوبے بھی شامل ہیں جن کا مقصد یہودی آباد کاروں کی ان مستوطنات کے اثر و رسوخ کو وسعت دینا اور ان کے قانونی و تزویراتی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہے۔
کمیشن کے مطابق تجویز کردہ یونٹس مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں واقع کئی یہودی مستوطنات میں تقسیم کیے گئے ہیں، جن میں سب سے نمایاں منصوبہ بیت لحم شہر کے مغرب میں واقع جفعوت مستوطنہ میں 1006 یونٹس کی تعمیر کا ہے، جسے مارچ سنہ 2025ء میں الون شفوت مستوطنہ سے الگ کرنے کے بعد اب ایک مستقل مستوطنہ کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نابلس شہر کے جنوب میں واقع ہار براخا یہودی بستی میں 922 یونٹس، جنین شہر کے مغرب میں ميفو دوتان مستوطنہ میں 455 یونٹس اور الخلیل شہر کے مشرق میں کریات اربع مستوطنہ میں 234 یونٹس سمیت دیگر بستیوں میں تعمیرات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
کمیشن کے مطابق اس اجلاس میں کئی یہودی مستوطنات میں تعمیراتی حدود میں ترمیم، اراضی کے استعمال کو تبدیل کرنے اور تعمیراتی نظام کو جدید بنانے کے متعدد منصوبوں پر بحث بھی شامل ہے۔ یہ چیز اس بات کی عکاس ہے کہ قابض دشمن کی حکومت یہودی بستیاں کی عمرانی توسیع کے متوازی اس غاصبانہ استعماری منصوبے کے تخمینی اور قانونی ڈھانچے کو مکمل کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔
کمیشن نے کہا کہ یہ منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ غاصب قابض حکام قائم شدہ بستیوں کو وسعت دے کر اور شہری طرز کے نئے استعماری مراکز قائم کر کے فلسطینی سرزمین پر نئے جغرافیائی حقائق مسلط کرنے کے درپے ہیں۔
انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ یہ قدم مزید فلسطینی اراضی کو ہڑپ کرنے اور فلسطینی شہروں و قصبوں کے درمیان جغرافیائی رابطے کو منقطع کرنے کا باعث بنے گا، اور یہ غاصبانہ الحاق کی ان پالیسیوں کا تسلسل ہے جن پر قابض دشمن کی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں عمل پیرا ہے۔
اتھارٹی کی جانب سے گذشتہ 30 مارچ سنہ 2026ء کو یومِ ارض کے موقع پر شائع کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں لگ بھگ 542 اسرائیلی مستوطنات اور استعماری چوکیاں پھیلی ہوئی ہیں، جن میں 192 مستوطنات اور 350 چوکیاں شامل ہیں۔ ان چوکیوں میں سے 165 سے زائد چوکیاں اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد قائم کی گئیں اور 59 چوکیاں اکیلے سال سنہ 2025ء کے دوران بنائی گئیں، جن میں مجموعی طور پر 7 لاکھ 80 ہزار سے زائد یہودی آباد کار رہائش پذیر ہیں۔
غزہ کی پٹی پر جاری نسل کشی کی وحشیانہ جنگ کے آغاز یعنی آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء سے ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کی افواج کی سرپرستی میں یہودی آباد کاروں کے حملوں اور مظالم میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر دیہی اور بدوی علاقوں میں جو ان مستوطنات اور چوکیوں سے متصل ہیں، اور جو بار بار فلسطینیوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانے والے حملوں کے مراکز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
فلسطینی سرکاری میڈیا آفس کی طرف سے گذشتہ 26 مئی سنہ 2026ء کو جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق اس وحشیانہ عسکری کشیدگی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1168 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور 12 ہزار 666 دیگر زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ تقریباً 23 ہزار فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 33 ہزار کو زبردستی ہجرت پر مجبور کر دیا گیا ہے۔