ہالینڈ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ)غزہ کی پٹی کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے میں شریک متعدد آسٹریلوی شہریوں نے ہالینڈ کے شہر لاگ میں واقع عالمی فوجداری عدالت میں ایک باضابطہ شکایت درج کرائی ہے جس میں انہوں نے قابض اسرائیلی حکام پر حراست کے دوران بدترین مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
آسٹریلیا کے نشریاتی ادارے اسپیشل براڈکاسٹنگ سروس (ایس بی ایس) نے انکشاف کیا ہے کہ عدالت میں جمع کرائی گئی اس شکایت میں متاثرہ بچ جانے والے افراد کے بیانات، طبی رپورٹیں اور قانونی حلف نامے شامل ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بعض یکجہتی کارکنوں کو وحشیانہ تشدد، انتہائی ناروا سلوک اور دیگر اقسام کے مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ سفاکیت اس وقت ڈھائی گئی جب قابض اسرائیل کی افواج نے رواں سال کے اوائل میں بھیجے جانے والے اس بحری بیڑے کو راستے میں ہی روک لیا تھا اور اس پر سوار تمام افراد کو زبردستی یرغمال بنا کر حراست میں لے لیا تھا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا گروپ کے منتظمین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عدالت کے سامنے پیش کی جانے والی اس دستاویز میں قابض دشمن کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے ارتکاب کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ ان دعووں کو ابھی تک کسی بھی عدالتی فورم کے سامنے باقاعدہ جانچ کے عمل سے نہیں گزارا گیا ہے۔
دوسری جانب ایس بی ایس نے قابض اسرائیل کا موقف نقل کرتے ہوئے بتایا ہے کہ غاصب انتظامیہ نے ان تمام الزامات کی یکسر تردید کی ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ قابض حکام کی حراست کے دوران تمام نظر بند افراد کے ساتھ مناسب سلوک کیا گیا تھا اور انہیں کسی بھی قسم کی بدسلوکی کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔
رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ معاملہ ابھی تک قانونی پیروی کے مراحل میں ہے، ایسے وقت میں جب دونوں فریقوں کے بیانات اور روایات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے اور بحری بیڑے کے منتظمین یکجہتی کارکنوں کی غیر قانونی حراست کے حالات اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے ایک آزاد اور خود مختار بین الاقوامی تحقیقات شروع کرنے کا پرزور مطالبہ کر رہے ہیں۔