ریاض – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازعات کے شکار علاقوں میں جنسی تشدد کا ارتکاب کرنے والوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں قابض اسرائیل کو شامل کیا جانا مظلوم فلسطینی متاثرین کی جیت ہے۔ تنظیم نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی سطح پر قابض اسرائیل کے تعاقب اور اس کے محاسبے کا تقاضا کرتا ہے۔
تنظیم کے جنرل سیکرٹریٹ نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کردہ ایک بیان میں مسلح تنازعات سے جڑے جنسی تشدد کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق کا خیرمقدم کیا اور ان کی حمایت کا اعلان کیا۔
بیان میں اشارہ کیا گیا کہ اس رپورٹ میں قابض اسرائیلی حکام اور اس کے اداروں کو تنازع سے وابستہ جنسی تشدد کے مختلف ہولناک ہتھکنڈوں کے ارتکاب میں ملوث مشتبہ فریقوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جس کی بنیاد اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں کی جانب سے جمع کردہ اور تصدیق شدہ مستند معلومات، عینی شاہدین کے بیانات اور شواہد پر رکھی گئی ہے۔
تنظیم نے اس اہم قدم کو مظلوم فلسطینی متاثرین کے لیے ایک قانونی اور انسانی فتح قرار دیا اور اسے انصاف و احتساب کے حصول اور مسلسل سزا سے بچ نکلنے کی روش کے خاتمے کی راہ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
تنظیم نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ یہ رپورٹ ایک انتہائی اہم بین الاقوامی قانونی اور سیاسی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جو فلسطینی قیدیوں اور عام شہریوں کے خلاف قابض اسرائیل کی طرف سے ڈھائے جانے والے منظم مظالم اور جرائم کی پرزور مذمت کرتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دستاویز مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کیے جانے والے جنگی جرائم اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ اب اس جرم پر بھی قانونی تعاقب کی راہ ہموار کرتی ہے اور اس کا تقاضا کرتی ہے۔
جنرل سیکرٹریٹ نے عالمی برادری سے اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ وہ جاری مظالم اور جرائم کو روکنے، بین الاقوامی قانون کے تحت ان کے ذمہ داروں کا محاسبہ کرنے اور اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اور فیصلہ کن اقدامات اٹھائے۔
یہ پیش رفت اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی ان رپورٹس کے سائے میں سامنے آئی ہے جن میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف قابض اسرائیلی حراستی مراکز بالخصوص سدی تیمان نامی بدنامِ زمانہ عقوبت خانے اور دیگر مقامات پر جنسی تشدد، جنسی زیادتی، ہراساں کیے جانے اور بدسلوکی کے واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
ان رپورٹس اور گواہیوں میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں چھاپوں اور گرفتاریوں کی کارروائیوں کے دوران خواتین اور مردوں کو اس جیسے بدترین سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔
گذشتہ اکیس اپریل سنہ 2026ء کو اقوامِ متحدہ نے ایک انسانی حقوق کی رپورٹ کا انکشاف کیا تھا جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے فلسطینیوں کو جنسی حملوں اور خوف و ہراس کا نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی گئی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ نارویجن ریفیوجی کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کے اپنے گھروں کے اندر جنسی حملوں اور شدید ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب، اخبار یسرائیل ہیوم نے ذکر کیا کہ قابض اسرائیل کو اس بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کا فیصلہ گذشتہ ہفتوں کے دوران اس فیصلے کو رکوانے کے لیے کی جانے والی تمام تر اسرائیلی کوششوں کے باوجود سامنے آیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں قابض ریاست کے مندوب ڈینی ڈینن نے جمعرات کے روز جاری کردہ ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس فیصلے کے پس منظر میں ان کے ملک نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش کے ساتھ اپنے تعلقات کو منجمد کر دیا ہے۔