غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مجرم قابض صہیونی دشمن کے قائدین کی طرف سے مسلسل جاری ہونے والے بیانات، جن میں تازہ ترین دہشت گرد وزیر جنگ یسرائیل کاٹز کا غزہ کی پٹی کے باسیوں کو زبردستی ہجرت پر مجبور کرنے کے منصوبے پر کام جاری رکھنے سے متعلق بیان ہے، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہمارے غیور عوام کو ان کی اپنی دھرتی سے اکھاڑ پھینکنے کے بھیانک وہم ابھی تک دشمن کے رہنماؤں کے دماغوں پر سوار ہیں، باوجود اس کے کہ وہ جنگ اور مسلسل نسل کشی کے طویل مہینوں کے دوران ہمارے عوام کے عزم و ارادے کو توڑنے یا اپنے جارحانہ منصوبوں کو مسلط کرنے میں بدترین طور پر ناکام رہے ہیں۔
حازم قاسم نے اپنے ایک جاری بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ مجرم یسرائیل کاٹز کے بیانات واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ قابض حکومت نے حقیقت میں سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کی پاسداری نہیں کی ہے اور وہ اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے اور اپنی ذمہ داریوں سے اس وقت مکر جانے کا بدنیتی پر مبنی ارادہ رکھتی ہے جسے وہ مناسب سمجھے گی، جیسا کہ خود یسرائیل کاٹز نے انتہائی صراحت کے ساتھ اس کا اعلان کیا ہے۔
حماس کے ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ ان خطرناک بیانات پر کونسل برائے امن اور اس کے نمائندوں، سیز فائر کے منصوبے کی منظوری دینے والی امریکہ کی انتظامیہ اور معاہدے میں ضامن و ثالث ممالک کے ساتھ ساتھ غزہ پر سیز فائر کے معاہدے پر دستخط کے لیے شرم الشیخ کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام فریقین کی طرف سے ایک واضح اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے تمام عرب ممالک اور خاص طور پر ان ممالک کو جنہیں زبردستی ہجرت کے ان گھناؤنے منصوبوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے، دعوت دی کہ وہ اس خطرناک منصوبے کو روکنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات اٹھائیں اور تمام سیاسی، سفارتی اور قانونی سطحوں پر کام کرتے ہوئے اس انتہا پسند دائیں بازو کی صہیونی حکومت کے عزائم کا مقابلہ کریں تاکہ ہمارے فلسطینی عوام کو زبردستی بے گھر کرنے اور دھرتی سے اکھاڑ پھینکنے کے استعماری منصوبوں کے ذریعے فلسطینی کاز کو ختم کرنے کی غاصبانہ کوششوں کا پامردی سے سدِباب کیا جا سکے۔