• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 29 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

صہیونی عقوبت خانوں میں 360 بچے اور 84 خواتین عید الاضحیٰ قید میں گزارنے پر مجبور

مقبوضہ فلسطین میں اسیران عید الاضحیٰ اپنے اہل خانہ سے دور گزارنے پر مجبور ہیں۔

جمعہ 29-05-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم
0
صہیونی عقوبت خانوں میں 360 بچے اور 84 خواتین عید الاضحیٰ قید میں گزارنے پر مجبور
0
SHARES
0
VIEWS

رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقدس عید الاضحیٰ کا مبارک دن ایک ایسے موڑ پر آ رہا ہے جب 360 فلسطینی بچے اور 84 اسیر خواتین قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اپنے خاندانوں سے دور انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ مظلوم اسیران غاصب دشمن کی طرف سے مسلط کردہ منظم نسل کشی اور محرومی کا شکار ہیں اور یہ ان 9400 فلسطینی اسیران کا حصہ ہیں جنہیں بنیادی انسانی حقوق سے یکسر محروم کر دیا گیا ہے۔

یہ دلخراش تفصیلات کلب برائے اسیران کے سربراہ عبد اللہ الزغاری کے عید کے موقع پر جاری ہونے والے ایک خصوصی بیان میں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ قابض اسرائیل کی جیلوں میں قید معصوم بچوں کی تعداد لگ بھگ 360 تک پہنچ چکی ہے جن میں تین کمسن بچیاں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 84 خواتین بھی ان تاریک کوٹھڑیوں میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہی ہیں، جن میں درجنوں ایسی مائیں بھی شامل ہیں جنہیں قابض دشمن نے ان کے معصوم بچوں اور پیاروں کے درمیان سے زبردستی اغوا کیا ہے۔ اس سفاکیت کے نتیجے میں ان کے بچوں کو ماں کی ممتا کی گرمجوشی اور ایک محفوظ زندگی کے فطری حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل اپنے منظم اور ہولناک نسل کشی کے اسلوب کو بڑھاتے ہوئے بدستور 9400 سے زائد فلسطینی اور عرب اسیران و نظر بندوں کو ان کی آزادی اور انسانی زندگی سے محروم رکھے ہوئے ہے اور انہیں اپنی عقوبت خانوں اور فوجی کیمپوں میں بدترین مظالم کا نشانہ بنا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ غاصب اسرائیل نے اس بار اسیران کو جس بے رحمی سے نشانہ بنایا ہے اس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ انہیں تشدد، جبر اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی جانے والی بدسلوکی کے ایک مربوط اور ہولناک نظام کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جاری نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک 100 سے زائد اسیران اور نظر بند جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جن میں سے 89 شہدا کی شناخت کا باقاعدہ اعلان آج تک کیا جا چکا ہے۔

کلب برائے اسیران کے سربراہ نے دل دہلا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ فلسطینی اسیران روزانہ کی بنیاد پر جاری نسل کشی کی بدترین اور بھیانک ترین شکل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف بھوکا رکھنے، وحشیانہ تشدد، محرومی اور ذلت آمیز رویوں کی منظم پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں۔ ان انسانیت سوز مظالم میں جنسی تجاوزات بشمول عصمت دری کے بھیانک جرائم بھی شامل ہیں اور جب سے نسل کشی کا یہ جرم شروع ہوا ہے، تب سے ان کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن کی لہر میں غیر مسبوق اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قابض حکام نے اسیران کے خاندانوں پر ان سے ملاقات کرنے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کا مقصد انہیں بیرونی دنیا سے بالکل کاٹ دینا اور انہیں نفسیاتی و انسانی طور پر تنہائی کا شکار کرنا ہے۔

عبد اللہ الزغاری نے غزہ کے اسیران اور ہزاروں لاپتہ افراد کے دردناک معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مسئلہ اب بھی سب سے زیادہ تکلیف دہ اور سنگین ترین قضایا میں سے ایک ہے۔ غزہ کے اسیران کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات اور شہادتیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ انہیں ایسے ہولناک اور ماورائے عقل تشدد اور خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غاصب دشمن کی عدالتوں کی جانب سے غیر قانونی جنگجو قرار دیے گئے اسیران کی تعداد 1283 تک پہنچ چکی ہے۔

قابض دشمن کی اس اندھی نسل کشی کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور 172 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس وحشیانہ جارحیت نے 90 فیصد شہری بنیادی ڈھانچے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، جس کی تعمیرِ نو کے لیے اقوامِ متحدہ نے لگ بھگ 70 ارب ڈالر کی لاگت کا تخمینہ لگایا ہے۔

اس بدترین صورتحال کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے کے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں میں بھی قابض اسرائیل کی جانب سے مسلسل فوجی چڑھائی، چھاپوں اور گرفتاریوں کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس مہم کے نتیجے میں اب تک 1168 فلسطینی شہید اور 12 ہزار 666 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ لگ بھگ 23 ہزار افراد کو گرفتار اور 33 ہزار کو بے گھر کیا جا چکا ہے۔ یہ مستند اعداد و شمار پیر کے روز فلسطینی گورنمنٹ میڈیا آفس کی جانب سے نشر کیے گئے ہیں۔

Tags: Eid al-AdhaGaza West Bank newsHuman RightsIsraeli PrisonsPalestinian childrenPalestinian PrisonersWomen Prisoners
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.