ڈنمارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطین پر ہونے والے تاریخی ظلم اور غصب کے اکہترویں سال یعنی فلسطینی النکبہ کی اٹھترویں برسی کے موقع پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایکشن ایڈ انٹرنیشنل اور نبض النکبہ پلیٹ فارم نے مشترکہ طور پر مظلوم فلسطینیوں کے جائز حقوق کی حمایت میں ایک عظیم الشان اسپورٹس ماراتھن کا انعقاد کیا ہے۔
قدس پریس کے مطابق یہ ماراتھن ڈنمارک کے سات مختلف شہروں میں منعقد کی گئی جن میں سے بیشتر کا انعقاد بلدیاتی کونسلوں کے دفاتر کے سامنے ہوا، اس سرگرمی کا اختتام اتوار کے روز دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہوا جہاں بلدیاتی کونسل کی عمارت کے سامنے ہزاروں ڈنمارک کے غیور اتھلیٹس اور یکجہتی کارکنان نے مظلوم فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اس میں بھرپور شرکت کی۔
اس سرگرمی کا مقصد، جو مسلسل تیسرے سال منعقد کی جا رہی ہے، مختلف اور اچھوتے طریقوں سے فلسطینی کاز اور غاصب صہیونی ریاست کی نسل کشی کو اجاگر کرنا ہے تاکہ معاشرے کے وسیع تر طبقات کو روایتی احتجاجی طریقوں سے ہٹ کر فلسطین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے کا موقع مل سکے۔
رواں سال اس سرگرمی سے حاصل ہونے والی تمام تر آمدنی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے زیرِ نگرانی چلنے والے منصوبوں کے ذریعے مظلوم فلسطینی خاندانوں کے حقوق کے تحفظ اور ایکشن ایڈ انٹرنیشنل کی جانب سے غزہ کی پٹی اور دیگر علاقوں میں جاری انسانی اور فلاحی امداد کے منصوبوں کے لیے وقف کی گئی ہے۔
اس موقع پر ڈنمارک کے رکن پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ میں یونائیٹڈ لسٹ پارٹی کے سربراہ پیلی دغاوسکا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان طریقوں میں سے ایک ہے جس کے ذریعے ہم فلسطین کے لیے اپنی مضبوط اور بھرپور حمایت کا اظہار کر سکتے ہیں، اس قسم کی سرگرمیاں معاشرے کے ان طبقات تک پہنچتی ہیں جو عام طور پر مظاہروں میں حصہ نہیں لیتے لیکن وہ اس کھیل کے ذریعے فلسطین کے ساتھ اپنی یکجہتی کے اظہار کا راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔
دوسری جانب ایکشن ایڈ انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل تيم وائٹ نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ ہم مظلوم فلسطینی عوام سے کہتے ہیں کہ ہماری آنکھیں اب بھی آپ پر لگی ہوئی ہیں اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو النکبہ اٹھتر سال پہلے شروع ہوا تھا وہ آج بھی غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں بدستور جاری ہے، ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور ہمیں امید ہے کہ یہ عوامی تحریک یورپ کے سیاستدانوں اور فیصلہ سازوں کی سوچ میں تبدیلی لانے کا باعث بنے گی۔
ڈنمارک میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل فیبی کلوغب نے کہا کہ یہ اسپورٹس سرگرمی فلسطینیوں کے حقوق بشمول آزادی، انصاف اور انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کے تحفظ اور سلامتی سے متعلق ہمارے مطالبات کو اجاگر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام اب بھی غاصبانہ قبضے اور نسل پرستانہ رنگ وعرق (اپارتھائیڈ) کے نظام کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری طرف غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی مہم مسلسل جاری ہے، اس لیے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ فلسطینی عوام آزادی اور وقار کے ساتھ جینے کا پورا حق رکھتے ہیں۔
ڈنمارک میں گذشتہ ہفتے منعقد ہونے والی ماراتھن کی فاتح ایتھلیٹ لونا نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ماراتھن جیتنے پر بہت خوش ہوں اور اس سے بھی زیادہ خوشی مجھے اس بات پر ہے کہ میں نے اپنی اس کامیابی کی آواز کو فلسطین کی حمایت کے لیے استعمال کیا، فلسطین آزاد ہے۔
اسی طرح نامور صحافی اور سیاسی تجزیہ کار محمد شحادہ نے کہا کہ ہم یہاں آج فلسطینی النکبہ کی یاد تازہ کرنے اور اس عزم کو دہرانے کے لیے جمع ہوئے ہیں کہ جو ظلم اٹھتر سال پہلے شروع ہوا تھا وہ آج بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا، انہوں نے اشارہ کیا کہ ہماری جدوجہد کوئی عارضی مرحلہ یا وقتی سرگرمی نہیں ہے بلکہ یہ ایک طویل ماراتھن ہے جو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک فلسطینی عوام اپنی کامل آزادی حاصل نہیں کر لیتے۔