غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ نسل کشی کی وحشیانہ جنگ کے نتیجے میں پھیلنے والی تباہی کے ہولناک ملبے سے دو فلسطینی بہنوں تالا اور فرح موسیٰ نے اپنی بے پناہ تکلیفوں کو ایک ایسے اختراعی منصوبے میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس نے مشرق وسطیٰ کی سطح پر سنہ 2026ء کے گلوبل ارتھ پرائز میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔
غزہ کی پٹی میں جہاں اس ہولناک جنگ نے بنیادی ڈھانچے کو نیست و نابود کر دیا ہے اور تقریباً 90 فیصد عمارات و منشات کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا ہے جس کے باعث اکثر باشندے دربدر ہو گئے ہیں اور 72 ہزار سے زائد فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 172 ہزار دیگر زخمی ہوئے ہیں وہاں ان دونوں بہنوں کا یہ پراجیکٹ تباہی کے اثرات کا مقابلہ کرنے اور دوبارہ تعمیرِ نو کے لیے متبادل حل تلاش کرنے کی ایک شاندار عملی کوشش بن کر ابھرا ہے۔
غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع النصيرات کیمپ میں اپنے خاندان کے ساتھ پناہ گزین ان دونوں بہنوں نے "ارتھ پرائز” کے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے جو کہ 13 سے 19 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے ماحولیاتی استحکام اور کاروباری قیادت سے متعلق ایک عالمی اقدام ہے۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک سے 6095 ٹیموں کے درمیان ہونے والے سخت مقابلے کے بعد ان کی ٹیم "بناء الامل” (امید کی تعمیر) اس مقابلے کی تاریخ میں اس بلند ترین مقام تک پہنچنے والی پہلی فلسطینی ٹیم بن گئی ہے۔
تالا موسیٰ کا کہنا ہے کہ ان کے منصوبے کا بنیادی خیال بمباری کے نتیجے میں تباہ ہونے والے گھروں کے ملبے اور مادی باقیات کو دوبارہ کارآمد بنانے (ری سائیکلنگ) کے لیے ایک غیر مرکزی نظام قائم کرنا ہے تاکہ اسے غزہ کی پٹی کے اندر تعمیراتی کاموں میں استعمال کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ خیال ان کے اپنے شہر میں واقع ان کے تباہ شدہ گھر کے ملبے سے پیدا ہوا اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: "ہم گھروں، سکولوں اور دیگر مقامات سے ملبہ جمع کرتے ہیں پھر اسے پیس کر اور اس میں مٹی، شیشہ اور بھوسا جیسے مقامی طور پر دستیاب اجزاء شامل کر کے ایک سادہ اور عملی طریقے سے ایسے بلاکس میں تبدیل کرتے ہیں جو بھاری وزن اٹھانے کے بجائے ہلکے تعمیراتی کاموں کے لیے موزوں ہوں”۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "ان مواد کو اچھی طرح ملانے کے بعد ہم انہیں سانچوں میں تقریباً ایک ہفتے کے لیے رکھ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ خشک ہو جائیں اور استعمال کے لیے تیار ہو جائیں”۔ انہوں نے کامیابی کے اعلان کے لمحے کو "انتہائی جذباتی اور دل کو چھو لینے والا” قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ وہ اسے اپنی پوری زندگی میں کبھی نہیں بھول پائیں گی۔
دوسری جانب فرح موسیٰ نے کہا کہ یہ پراجیکٹ سرحدوں کی مسلسل بندش اور غزہ کی پٹی میں تعمیراتی مواد کے داخلے پر پابندی کے سائے میں تعمیرِ نو کے لیے ایک "متبادل اور عارضی حل” فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس آئیڈیا کی کامیابی انہیں غزہ کی پٹی کے دیگر نوجوانوں کے لیے تربیتی ورکشاپس منعقد کرنے پر آمادہ کرے گی تاکہ اس تجربے کو دوسروں تک پہنچا کر بڑے پیمانے پر لاگو کیا جا سکے اور انہوں نے مزید کہا: "کوئی بھی شخص اس آئیڈیا پر عمل درآمد کر کے عملی میدان میں اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے”۔
اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق غزہ کی پٹی میں تباہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ملبے کا حجم تقریباً 60 ملین ٹن ہے جس نے بڑی تعداد میں مقامی باسیوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے اور تباہ شدہ مکانات کی کسی حد تک مرمت کے لیے اس ملبے کو مختلف طریقوں سے دوبارہ استعمال میں لائیں، چاہے وہ عارضی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔