بیلجیم – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) یورپی پارلیمنٹ کے 29 ارکان نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنان کے ساتھ بدسلوکی پر مبنی مناظر نشر کرنے کے پس منظر میں قابض اسرائیل کے سخت گیر دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کو یورپی یونین کے "عالمی انسانی حقوق پابندیوں کے نظام” میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اطالوی رکنِ پارلیمنٹ ڈینیلو ڈیلا ویلے نے امریکہ کی ایکس پلیٹ فارم کمپنی پر آج جمعرات کے روز شائع کردہ ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے 28 یورپی ارکانِ پارلیمنٹ کے ہمراہ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے۔
ڈیلا ویلے نے اشارہ کیا کہ اس مکتوب میں یہ بتایا گیا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے یکجہتی کارکنان کو ہتھکڑیاں اور زنجیریں پہنا کر سرِعام تذلیل کا نشانہ بنایا گیا، اس کے ساتھ ہی وہ جسمانی و نفسیاتی تشدد اور انسانی وقار کو مجروح کرنے والی سنگین خلاف ورزیوں کا شکار ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ یورپی ممالک نے یکجہتی کارکنان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر وضاحت طلب کرنے کے لیے اپنے ہاں متعین قابض اسرائیل کے سفیروں کو طلب کیا ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ باتوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں”۔
اطالوی رکنِ پارلیمنٹ نے تصدیق کی کہ یورپی کونسل کے صدر کو بھیجے گئے مکتوب میں یورپی یونین کے "عالمی انسانی حقوق پابندیوں کے نظام” کے تحت ایتمار بن گویر اور یکجہتی کارکنان کے خلاف تشدد کے واقعات کے ذمہ داروں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے متوجہ کیا کہ یہ نظام اس سے قبل "تشدد کے حامی یہودی آباد کاروں” کے خلاف استعمال کیا جا چکا ہے اور اب اس کا دائرہ کار وسیع کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار دیگر افراد کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔
ڈیلا ویلے نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل کو چلانے والے ان فاشسٹوں کو ان کے جرائم پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ "عالمی انسانی حقوق پابندیوں کے نظام” ایک ایسا قانونی ڈھانچہ ہے جو یورپی یونین کو دنیا میں کہیں بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
اس نظام کو امریکہ میں منظور شدہ انسانی حقوق کے احتساب کے "عالمی میگنیٹسکی قانون” سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
اس کے تحت عائد کی جانے والی پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، یورپی یونین کے شہریوں اور کمپنیوں کی طرف سے فہرست میں شامل افراد کو فنڈز کی فراہمی پر پابندی عائد کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ ان پر سفری پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔
گذشتہ بدھ کے روز ایتمار بن گویر نے ایک ویڈیو کلپ نشر کیا تھا جس میں انہیں گلوبل صمود فلوٹیلا کے یکجہتی کارکنان پر ڈھائے جانے والے مظالم اور تذلیل کے عمل کی براہِ راست نگرانی کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
یکجہتی کارکنان پر تشدد کے ان مناظر کا شدید عالمی ردعمل سامنے آیا جس کے بعد کئی ممالک نے احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے اپنے ہاں موجود قابض اسرائیل کے سفیروں اور نمائندوں کو طلب کیا، جن میں اسپین، کینیڈا، ہالینڈ، فرانس، اٹلی، بیلجیم اور برطانیہ شامل ہیں۔
گذشتہ منگل کی شام قابض اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے تمام یکجہتی کارکنان کو حراست میں لینے اور انہیں اسرائیلی بحریہ کے جہازوں میں منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق، اسرائیلی فوج نے لگ بھگ 50 کشتیوں پر مشتمل تمام بیڑے پر حملہ کیا تھا، جس پر 44 ممالک سے تعلق رکھنے والے 428 یکجہتی کارکن سوار تھے، جن میں ترکیہ کے شہری بھی شامل تھے۔