استیبول – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ترک ایئر لائنز کے تین طیارے گلوبل صمود فلوٹیلا کے 422 یکجہتی کارکنان کو لے کر استنبول کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچ گئے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب قابض اسرائیل کی افواج نے یکجہتی کارکنان کو رہا کیا جنہیں رواں ہفتے کے آغاز میں بین الاقوامی پانیوں میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ محاصرے کو توڑنے اور فلسطینیوں تک انتہائی اہم انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
واپس آنے والے یکجہتی کارکنان کے استقبال کے لیے ترک حکام کا ایک وفد ان کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کے ہمراہ موجود تھا۔
جیسے ہی وہ پہنچے تو ان میں سے زخمی ہونے والے افراد کو وہاں پہلے سے منتظر ایمبولینسوں کے ذریعے ضروری طبی امداد کی فراہمی کے لیے منتقل کیا گیا۔
منصوبے کے مطابق یکجہتی کارکنان کو فرانزک میڈیکل انسٹی ٹیوٹ منتقل کیا جائے گا تاکہ ان کا باقاعدہ طبی معائنہ کیا جا سکے اور یہ کارروائی استنبول کے پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے اس واقعے کے بارے میں شروع کی گئی قضائی تحقیقات کا حصہ ہے۔
ترکیہ کی وزارت خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ انخلا کی کوششیں تل ابیب میں ترک سفارت خانے کے حکام کی مکمل ہم آہنگی اور براہ راست نگرانی میں کی گئیں جہاں یکجہتی کارکنان اسرائیلی رامون ہوائی اڈے سے خصوصی پروازوں کے ذریعے روانہ ہوئے۔
ذرائع نے اشارہ کیا کہ روانہ ہونے والوں میں 85 ترک شہری شامل ہیں جبکہ ان کے ساتھ مختلف بین الاقوامی ممالک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں یکجہتی کارکن بھی موجود ہیں۔
اسی تناظر میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے تصدیق کی کہ ریاست کے متعلقہ اداروں نے فلوٹیلا کو نشانہ بنانے والی غیر قانونی مداخلت کے بعد حراست میں لیے گئے شہریوں اور یکجہتی کارکنان کی سلامتی کو یقینی بنانے اور ان کی بحفاظت واپسی کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا ہے۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل کی فوج نے گذشتہ پیر کے روز بحیرہ روم کے بین الاقوامی پانیوں میں ان درجنوں کشتیوں پر حملہ کیا تھا جو گلوبل صمود فلوٹیلا پر مشتمل تھیں اور ان پر 44 ممالک سے تعلق رکھنے والے 428 شہری یکجہتی کارکن سوار تھے۔
اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مذمت کی لہر اور سفارتی غم و غصے کو جنم دیا ہے خاص طور پر ان ویڈیو کلپس کے سامنے آنے کے بعد جنہیں اسرائیلی قومی سکیورٹی کے وزیر ایتمار بن گویر نے نشر کیا تھا جن میں یکجہتی کارکنان پر ڈھائے جانے والے مظالم اور تشدد کو دکھایا گیا تھا جس کے باعث متعدد یورپی ممالک بشمول اسپین، فرانس، اٹلی، برطانیہ، کینیڈا، ہالینڈ اور بیلجیم نے احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے اپنے ہاں متعین قابض اسرائیل کے سفیروں کو طلب کیا۔