غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کی معیشت ساختی تباہی کے ایک ایسے غیر معمولی مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی ہے کیونکہ قابض اسرائیل کی طرف سے نام نہاد "پیلی لکیر” کا دائرہ کار تیزی سے وسیع کیا جا رہا ہے، جو اب محض ایک فوجی اور سکیورٹی اقدام نہیں رہا بلکہ غزہ کی پٹی کے اندر معاشی جغرافیے کو مسخ کرنے کا ایک آلہ بن چکا ہے۔ اس کے ذریعے زرعی اراضی اور پیداواری علاقوں کے وسیع حصوں کو الگ تھلگ کر کے شہری زندگی کے دائرے سے باہر نکالا جا رہا ہے۔
موجودہ معاشی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے معاشی تجزیہ کار احمد ابو قمر نے کہا کہ قابض اسرائیل کا محاصرہ اب صرف سرحدیں بند کرنے یا سامان کی آمد و رفت کو محدود کرنے تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ یہ مقامی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کے ایک ایسے جامع منصوبے میں بدل چکا ہے جس کی بنیاد آبادی کے حیاتیاتی دائرے کو تنگ کرنے اور وسیع علاقوں کو الگ تھلگ کر کے ان کے استعمال پر پابندی لگانے پر ہے۔
ابو قمر نے واضح کیا کہ یہ "پیلی لکیر” اس وقت غزہ کی پٹی کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر قابض ہو چکی ہے، جس میں 80 فیصد سے زائد زرعی اراضی شامل ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جو مقامی طور پر خوراک کی پیداوار کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے اور ہزاروں فلسطینی خاندانوں کا واحد ذریعہ معاش تھے۔
گذشتہ معاشی اور زرعی اعداد و شمار کے مطابق، صہیونی نسل کشی کی اس جنگ سے پہلے غزہ کی پٹی کے پاس تقریباً 1 لاکھ 95 ہزار دونم زرعی اراضی موجود تھی، جس میں سے تقریباً 95 ہزار دونم پر عملاً سبزیاں، اناج اور پھلدار درخت کاشت کیے جاتے تھے۔ مسلسل محاصرے کے سالوں کے باوجود زرعی شعبہ مقامی معیشت کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک تھا۔
گذشتہ برسوں کے دوران، غزہ کی پٹی کی آبادی کے ایک بہت بڑے حصے نے دیگر پیداواری شعبوں میں گراوٹ کے باعث زراعت کو اپنے آخری معاشی سہارے کے طور پر اپنایا تھا۔ زراعت نے مقامی غذائی ضروریات کے ایک حصے کو پورا کرنے اور بیرونی درآمدات پر انحصار کم کرنے میں ہمیشہ ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
ابو قمر نے اشارہ کیا کہ زرعی شعبہ غزہ کی پٹی کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 11 فیصد سے زائد کا حصہ ڈالتا تھا، جس کی پیداواری مالیت سالانہ کروڑوں ڈالر تک پہنچتی تھی۔ تاہم، اس پورے نظام کا ایک بہت بڑا حصہ براہ راست سفاکیت اور تباہی کے باعث یا مزارعین کو ان کی زمینوں تک پہنچنے سے روکنے کی وجہ سے مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔
ان ہولناک اثرات کا سلسلہ صرف زراعت تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ غزہ کی پٹی کے شمالی اور مشرقی علاقوں سمیت جنوبی غزہ میں واقع صنعتی زون بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا شکار ہوئے ہیں۔ اس سفاکیت کے نتیجے میں صنعتی سرگرمیاں لگ بھگ مکمل طور پر ٹھپ ہو چکی ہیں اور ہزاروں ورکشاپس، گودام اور پیداواری مراکز بند پڑے ہیں۔
یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ کی معیشت سنہ 2007ء سے جاری قابض اسرائیل کے مستقل محاصرے کے باعث پہلے ہی شدید کمزوری اور بحران کا شکار تھی، جس کی وجہ سے صنعت اور زراعت کا شعبہ مسلسل زوال پذیر تھا اور انسانی امداد اور بیرونی فنڈز پر انحصار کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی۔
ابو قمر کے تخمینے کے مطابق، غزہ کی پٹی کی معیشت میں سنہ 2025ء کے دوران جنگ سے پہلے کے دور کے مقابلے میں 87 فیصد سے زائد کی تاریخی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری طرف بے روزگاری کی شرح 80 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ غربت کی شرح بڑھ کر مجموعی آبادی کے 90 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں خاندان اپنے آمدنی کے بنیادی ذرائع سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ زمینوں، آلات اور پیداواری ڈھانچے کی تباہی کے نتیجے میں مزارعین اور چھوٹے کاروباری مالکان کو انفرادی طور پر لاکھوں شیکل کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ ان اشاریوں کی سنگینی صرف موجودہ تباہی کے حجم میں نہیں ہے، بلکہ غزہ کی پٹی کے اندر جاری معاشی تبدیلی کی نوعیت میں پنہاں ہے۔ یہاں پیداواری معیشت کو منظم طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے، تاکہ فلسطینی معاشرے کو کام اور پیداوار کے بجائے صرف امداد اور بقا پر منحصر ماڈل میں تبدیل کر دیا جائے۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر زرعی زمینوں پر یہ غاصبانہ کنٹرول برقرار رہا اور صنعتی ڈھانچے کی تباہی کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا، تو اس سے غذائی اور معاشی محکومیت مزید گہری ہو جائے گی۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ جنگ بندی کی صورت میں بھی غزہ کی پٹی مستقبل میں اپنے بل بوتے پر دوبارہ بحال ہونے کی ہر قسم کی صلاحیت سے مستقل طور پر محروم ہو جائے گی۔