• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 21 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

اسرائیل کا ترکیہ میں قونصل خانہ بند کرنے پر غور، سفارتی کشیدگی میں اضافہ

یہ انتہائی قدم گذشتہ اپریل کے مہینے میں قونصل خانے کے ارد گرد ہونے والے فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد اٹھایا جا رہا ہے۔

جمعرات 21-05-2026
in خاص خبریں, عالمی خبریں
0
اسرائیل کا ترکیہ میں قونصل خانہ بند کرنے پر غور، سفارتی کشیدگی میں اضافہ
0
SHARES
1
VIEWS

استنبول – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غاصب اور غرض مند قابض اسرائیلی حکام استنبول شہر میں واقع اپنے اس قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں جو سنہ 1949ء میں قائم کیا گیا تھا اور اسے صہیونی وجود کے قدیم ترین سفارتی مشنز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی قدم گذشتہ اپریل کے مہینے میں قونصل خانے کے ارد گرد ہونے والے فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد اٹھایا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) نے ایک صہیونی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ انقرہ میں قائم قابض اسرائیل کا سفارت خانہ فی الحال کھلا رہے گا، اگرچہ وہاں ان کا کوئی بھی سفارتی عملہ موجود نہیں ہے۔ واضح رہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ کی پٹی پر غاصب صہیونیوں کی مسلط کردہ وحشیانہ جنگ اور نسل کشی کے آغاز کے فوراً بعد سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سفارت خانے اور قونصل خانے کے تمام صہیونی ملازمین کو وہاں سے نکال لیا گیا تھا اور وہ تب سے غائب ہیں۔

مذکورہ ذریعے نے بتایاکہ اس وقت سفارت خانے اور قونصل خانے کے اندر صرف مقامی ترک ملازمین ہی کام کر رہے ہیں، اور انہوں نے مزید کہا کہ "یہ معاملہ ابھی زیر غور ہے اور ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا”۔

ذریعے نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ زلزلے سے بچاؤ کے اقدامات کے فریم ورک کے تحت اس عمارت کو گرانے کا ایک منصوبہ بھی موجود ہے جس میں یہ قونصل خانہ قائم ہے، جبکہ بعض صہیونی حلقوں کا ماننا ہے کہ "ان خالی دفاتر کو برقرار رکھنا اور ان کے اخراجات اٹھانا بجٹ پر بہت بڑا مالی بوجھ بن رہا ہے”۔

یاد رہے کہ گذشتہ سات اپریل کو قونصل خانے کے قریبی علاقے میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جس کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی تھی، اس کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا تھا اور دو پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت ترکیہ کے حکام نے مزید تفصیلات بتائے بغیر اس حملے کے پیچھے "دین کا استحصال کرنے والی ایک دہشت گرد تنظیم” کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا تھا۔

ایک باخبر ذریعے نے اس سے قبل فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو تصدیق کی تھی کہ اس وقت ترکیہ کی سرزمیں پر کوئی بھی اسرائیلی سفلو کار موجود نہیں ہے، اور انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی پٹی پر مسلط صہیونی جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سفارتی مشنز کو خالی کرانے کے اس عمل میں ترکیہ اور خطے کے دیگر ممالک شامل تھے۔

غزہ کی پٹی پر مسلط کی جانے والی اس ہولناک جنگ کے آغاز کے بعد سے ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے قابض اسرائیل اور اس کی سفاک حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو پر اپنی سخت تنقید اور حملوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔ دونوں فریقین کے درمیان جاری شدید سیاسی تناؤ اور کھنچاؤ کے سائے میں، وہاں تعینات آخری ترک سفیر کی ریٹائرمنٹ کے بعد، اس وقت قابض اسرائیل میں ترکیہ کی نمائندگی محض ایک ناظم الامور (قائم مقام سفیر) کر رہا ہے۔

Tags: #Turkeybreaking newsConsulateDiplomacyForeign Relationsinternational relationsisraelIstanbulMiddle EastPolitics
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.