رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) کلب برائے اسیران نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل نے سفینہ آزادی اور گلوبل صمود فلوٹیلا میں شریک بین الاقوامی یکجہتی کارکنوں کے اغوا کو ایک منظم پالیسی میں تبدیل کر دیا ہے جس کا مقصد فلسطین کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کو خوفزدہ کرنا اور فلسطینیوں کے ساتھ بین الاقوامی یکجہتی کا گھیراؤ کرنا ہے۔
کلب برائے اسیران نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنے ایک پردرد بیان میں مزید کہا کہ غاصب صیہونی دشمن اس ظالمانہ پالیسی کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ جو کوئی بھی فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے بارے میں سوچے گا اس کا مقدر صرف اور صرف حراست، وحشیانہ تنکیل، گرفتاری اور شدید تعذیب ہو گا۔
کلب برائے اسیران کا یہ بیان قابض اسرائیل کے وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کی طرف سے ایک ایسی ویڈیو جاری کرنے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں قابض افواج کو ان سینکڑوں یکجہتی کارکنوں پر مظالم ڈھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جنہیں صیہونیوں نے بین الاقوامی پانیوں سے اس وقت اغوا کیا تھا جب وہ غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ ظالمانہ محاصرے کو توڑنے کے ایک انسانی مشن میں حصہ لے رہے تھے۔
تنظیم نے واضح کیا کہ جو کچھ ہوا وہ ان جاری بدنام زمانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے جو قابض حکام نے گذشتہ سالوں کے دوران سینکڑوں بین الاقوامی یکجہتی کارکنوں کے خلاف اپنا رکھی ہیں۔ بیان میں اشارہ کیا گیا کہ قابض اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا اور سفینہ آزادی کی کشتیوں کا گھیراؤ کیا اور ان میں سوار شرکاء کو اغوا کر کے زبردستی اسدود بندرگاہ پر منتقل کر دیا۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان یکجہتی کارکنوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، تشدد اور تذلیل کے مناظر، جن میں ایتمار بن گویر خود براہِ راست شریک تھا، اس ہولناک روزمرہ کی حقیقت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں جس کا سامنا فلسطینی اور عرب اسیران کو قابض صہیونی عقوبت خانے کے اندر کرنا پڑ رہا ہے۔
کلب برائے اسیران نے مزید کہا کہ اسیران اور حراست میں لیے گئے معصوم لوگوں کے خلاف ڈھائے جانے والے بے مثال اور لرزہ خیز جرائم کے سائے میں اب قابض صہیونی عقوبت خانے فلسطینیوں کے خلاف منظم نسل کشی کے سب سے بڑے میدانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
کلب برائے اسیران نے صیہونی قید میں موجود ان غیور یکجہتی کارکنوں کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ فلسطینی حق کے حق میں کھڑی آزاد آوازوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اور انہوں نے دنیا بھر کے غیور اور باضمیر انسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی یکجہتی کو مسلسل جاری رکھیں اور غزا پر مسلط کردہ جنگ کی بندش یعنی سیز فائر (یا جنگ بندی)، محاصرے کے خاتمے اور بھوک سے مارنے کی صیہونی پالیسی کو روکنے کے لیے بھرپور کام کریں۔
تنظیم نے بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے اداروں سے بھی پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ان یکجہتی کارکنوں کی فوری رہائی اور ان کے انجام کا پتہ لگانے کے لیے صیہونی ریاست پر دباؤ ڈالیں، اور اس کے ساتھ ہی اس بین الاقوامی سازش اور خاموشی کا خاتمہ کیا جائے جس نے قابض اسرائیل کو عالمی سزا سے ہمیشہ محفوظ رکھا ہوا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب قابض اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 430 یکجہتی کارکنوں کو ان کے ممالک کے سفارت کاروں سے ملوانے کے لیے اسدود بندرگاہ منتقل کیا ہے، صیہونی وزیر ایتمار بن گویر نے وہ خونی ویڈیو جاری کی جس میں ان یکجہتی کارکنوں کے ہاتھ باندھے گئے ہیں اور انہیں زمین پر اوندھے منہ لیٹنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جبکہ صیہونی ترانہ لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے بلند آواز میں بجایا جا رہا ہے۔
اس ویڈیو کلپ میں ایک غیور خاتون یکجہتی کارکن کو فلسطین کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس پر قابض اسرائیل کے سکیورٹی اہلکاروں نے وحشیانہ حملہ کیا اور اسے انتہائی سفاکیت سے زمین پر پٹخ دیا، جبکہ دوسری طرف صیہونی وزیر ایتمار بن گویر اسرائیلی جھنڈا لہراتے ہوئے ایک ہتھکڑی لگے یکجہتی کارکن کو انتہائی اشتعال انگیز جملوں سے نشانہ بنا رہا ہے۔
قابض اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے منگل کی شام کو گلوبل صمود فلوٹیلا کی تمام کشتیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور یکجہتی کارکنوں کو صیہونی بحریہ کے جہازوں پر منتقل کرنے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔
فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق قابض صیہونی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں تقریباً 50 کشتیوں کا راستہ روکا جن پر 44 ممالک سے تعلق رکھنے والے 428 یکجہتی کارکن سوار تھے۔
فلوٹیلا پر اس غاصبانہ حملے اور اس کے شرکاء کے اغوا نے دنیا بھر میں شدید مذمت کی لہر دوڑا دی ہے، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی شامل ہے جس نے صیہونیوں کے اس عمل کو ایک انتہائی شرمناک اور غیر انسانی فعل قرار دیا ہے۔