بیروت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) "حزب اللہ” کی جانب سے آپٹیکل فائبر (بصری ریشوں) کے ذریعے چلنے والے گائیڈڈ ڈرونز پر انحصار نے قابض اسرائیل کے ساتھ مسلح تصادم کی حکمت عملیوں میں ایک انقلابی اور معیاری تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ دوسری طرف تل ابیب کے حلقوں میں اس ہتھیار کے حوالے سے شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے، جسے اب جنوبی لبنان میں گھسنے والی اس کی غاصب افواج کے لیے سب سے زیادہ پیچیدہ اور خطرناک سکیورٹی چیلنجوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
گذشتہ چند دنوں کے دوران حزب اللہ کے عسکری میڈیا نے متعدد ویڈیو فوٹیجز جاری کی ہیں جن میں قابض اسرائیل کے فوجیوں اور فوجی گاڑیوں بشمول "ہمویل” جیپوں اور بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان حملوں کے لیے آپٹیکل فائبر ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے چھوٹے "FPV” خودکش ڈرونز کا استعمال کیا گیا ہے۔
ان مناظر میں دشمن کے سپاہیوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کی انتہائی باریک بینی سے نگرانی دکھائی گئی، جس کے بعد ان پر براہِ راست اور کاری ضرب لگائی گئی۔ بعد ازاں قابض اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ ان ڈرون حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان اور مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں میں اس کے متعدد فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
دشمن کے خلاف برسرِپیکار یہ نیا ہتھیار الیکٹرانک آلات کے ذریعے کی جانے والی جیمنگ اور سگنل بلاک کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے قابض اسرائیل کی گاڑیوں اور فوجی اڈوں کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بناتا ہے۔
یاد رہے کہ قابض اسرائیل گذشتہ 2 مارچ سے لبنان کے خلاف ایک وسیع اور وحشیانہ جارحیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں بے گناہ افراد شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ سرکاری لبنانی اعداد و شمار کے مطابق 1.6 ملین سے زائد افراد یعنی کل آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ بے گھر ہو چکا ہے۔
گذشتہ 17 اپریل سے نافذ العمل جنگ بندی کے باوجود، غاصب صیہونی فوج جنوبی لبنان میں اپنی دراندازی جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ دباؤ بڑھانے کے لیے درجنوں دیہاتوں میں مکانات اور عمارتوں کو منظم طریقے سے دھماکوں سے اڑانے اور مسمار کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو زبردستی ہجرت پر مجبور کر رہی ہے۔ دشمن اس تمام تر سفاکیت کے لیے یہ بے بنیاد جواز پیش کرتا ہے کہ وہ عسکری بنیادی ڈھانچے اور حزب اللہ کے ارکان کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بڑھتا ہوا چیلنج
گذشتہ چند دنوں میں، قابض اسرائیل کے فوجی افسران اور دفاعی تجزیہ کاروں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے موجودہ دفاعی نظام حزب اللہ کی طرف سے داغے جانے والے ان ڈرونز کا مقابلہ کرنے میں مکمل طور پر بے بس ہو چکے ہیں، جو اب میدانِ جنگ میں غاصب افواج کے لیے ایک مستقل اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکے ہیں۔
اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش میں، غاصب صیہونی فوج نے عارضی اور مقامی حلوں کا سہارا لیا ہے، جن میں بکتر بند گاڑیوں کے اوپر دھاتی یا نائلون کے جال لگانا شامل ہے تاکہ ان خودکش ڈرونز کی رفتار کو سست کر کے انہیں اپنے اہداف تک براہِ راست پہنچنے سے روکا جا سکے۔
اسی طرح، جب بھی یہ ڈرون نظر آئیں یا ان کی آواز سنائی دے، تو صیہونی فوجی ان پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیل کی وزارتِ دفاع اور فوجی صنعت کی کمپنیاں ایسے بصری اور صوتی مانیٹرنگ سسٹم تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جو ان وائرڈ (تار دار) ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں فضا میں ہی تباہ کر سکیں۔
قابض اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ اس قسم کے ڈرونز کو گرانے کے لیے امریکہ سے خصوصی "شظیہ دار گولیاں” (Flak Bullets) پہنچ چکی ہیں۔
گذشتہ ہفتے اسی ادارے نے بتایا تھا کہ قابض اسرائیل امریکہ میں ایسی شظیہ دار گولیوں کا تجربہ کر رہا ہے جنہیں 5.56 کیلیبر کے میگزینوں میں لوڈ کیا جائے گا۔ یہ گولیاں M-16 اور ٹاور رائفلوں کے لیے موزوں ہیں، اور انہیں جنوبی لبنان میں موجود صیہونی فوجیوں میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ وہ حزب اللہ کے ڈرونز کو روکنے کی کوشش کر سکیں۔
گذشتہ اپریل کے آخر میں، غاصب صیہونی حکومت کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاھو نے بھی اعتراف کیا تھا کہ حزب اللہ کے راکٹ اور ڈرونز ان کے لیے "دو بڑے اسٹریٹجک خطرات” ہیں، اور انہوں نے فوجی قیادت پر زور دیا تھا کہ وہ اس کا کوئی حل تلاش کریں۔
جیمنگ کے خلاف ناقابلِ تسخیر
اس قسم کے ڈرونز ایک انتہائی باریک آپٹیکل فائبر کیبل پر انحصار کرتے ہیں جو ڈرون کو براہِ راست اس کے کنٹرولر (آپریٹر) سے جوڑتی ہے۔ اس میں روایتی ریڈیو لہروں یا وائرلیس کمیونیکیشن سسٹمز کا استعمال نہیں ہوتا، جنہیں آسانی سے ہیک کیا جا سکتا ہے یا جن کے سگنلز میں خلل (جیمنگ) ڈالا جا سکتا ہے۔
اس تکنیک پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈیجیٹل تبدیلی اور تکنیکی ترقی کے ماہر ہشام الناطور کہتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی کھلی ہوئی وائرلیس فضا کے بجائے ایک "محفوظ اور بند مادی واسطے” کے ذریعے کنٹرول کے احکامات، ڈیٹا اور لائیو تصاویر منتقل کرتی ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ تبدیلی ڈرون کو الیکٹرانک جیمنگ یا سگنلز کو روکنے کی کوششوں کے خلاف ایک زبردست تحفظ فراہم کرتی ہے، بالخصوص ایسے حالات میں جب قابض اسرائیل الیکٹرانک جنگ اور وائرلیس مواصلات سمیت جی پی ایس (GPS) سگنلز کو معطل کرنے پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ روایتی ڈرونز جیمنگ سے بھرپور ماحول میں آسانی سے اپنی افادیت کھو دیتے ہیں، جبکہ یہ تار دار ڈرونز اپنا کام معمول کے مطابق جاری رکھتے ہیں کیونکہ یہ کسی ایسے وائرلیس سگنل پر انحصار ہی نہیں کرتے جسے بلاک یا خراب کیا جا سکے۔
سراغ لگانے میں شدید دشواری
ہشام الناطور کے مطابق، آپٹیکل فائبر کا استعمال بغیر کسی تاخیر کے انتہائی اعلیٰ معیار کی لائیو ویڈیو فراہم کرتا ہے، جسے تکنیکی اصطلاح میں "زیرو لیٹنسی” کہا جاتا ہے۔ یہ خصوصیت آپریٹر کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ہدف سے ٹکرانے کے آخری سیکنڈ تک ڈرون کو لمحہ بہ لمحہ اپنے کنٹرول میں رکھ سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ خاصیت ڈرون کو آخری چند میٹروں کے دوران انتہائی درست پینترا بدلنے کی زبردست صلاحیت دیتی ہے، خاص طور پر جب عسکری گاڑیوں اور قلعہ بند پوزیشنوں کے مخصوص سوراخوں یا کمزور پوائنٹس کو نشانہ بنانا ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ وائرڈ ڈرونز کسی قسم کے ریڈیو سگنل خارج نہیں کرتے، جسے تکنیکی زبان میں "زیرو آر ایف ایمیشنز” کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپریٹر کے مقام یا لانچنگ پیڈ کا پتہ لگانا "تقریباً ناممکن” ہو جاتا ہے۔
الناطور نے یہ بھی بتایا کہ صیہونی فوج پہلے روایتی ڈرونز کے ریڈیو فریکوئینسیوں کا سراغ لگا کر ان کے کنٹرول سینٹر کا پتہ لگاتی اور اسے نشانہ بناتی تھی، لیکن آپٹیکل فائبر سے جڑے ڈرونز کے سامنے یہ طریقہ کار مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
کم لاگت مگر انتہائی مؤثر تکنیک
الناطور کا ماننا ہے کہ روس یوکرین جنگ نے اس قسم کے ڈرونز کی تیاری اور ترقی کے لیے ایک بنیادی تجربہ گاہ کا کام کیا، جہاں دونوں فریقین نے بھاری الیکٹرانک جنگی نظاموں سے بچنے کے لیے انہیں استعمال کیا جنہوں نے روایتی ڈرونز کی ایک بڑی تعداد کو ناکارہ بنا دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین میں اس ماڈل کی کامیابی نے اسے دیگر محاذوں بشمول لبنان تک پہنچانے میں مدد دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان ڈرونز کی افادیت صرف جیمنگ سے بچنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان کی لاگت ان مہنگے اہداف کے مقابلے میں انتہائی کم ہے جنہیں یہ تباہ کرتے ہیں۔ انہیں سول مارکیٹوں میں دستیاب تجارتی پرزوں کی مدد سے بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ ان میں سے بعض ڈرونز کی لاگت چند سو سے چند ہزار ڈالرز کے درمیان ہوتی ہے، جبکہ یہ لاکھوں ڈالرز مالیت کی صیہونی گاڑیوں، بکتر بندوں اور فوجی نظاموں کو کامیابی سے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہلکا وزن اور بہترین کارکردگی
تکنیکی خصوصیات کے بارے میں الناطور نے وضاحت کی کہ یہ ڈرونز ایک ایسے نظام پر کام کرتے ہیں جسے "ایئر بورن اسپولنگ” (محرک چرخی) کہا جاتا ہے، جہاں ڈرون خود آپٹیکل فائبر کیبل اٹھاتا ہے اور پرواز کے دوران اسے بتدریج نیچے چھوڑتا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کیبل کی لمبائی عام طور پر 10 سے 20 کلومیٹر کے درمیان ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ 30 کلومیٹر تک بھی پہنچ جاتی ہے، جبکہ اس کا وزن انتہائی کم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر 10 کلومیٹر طویل آپٹیکل فائبر کا وزن صرف 250 گرام کے قریب ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کیبل کا یہ ہلکا وزن ڈرون کو اپنی نقل و حرکت کی رفتار اور بارود سے بھرے دھماکہ خیز مواد کو لے جانے کی صلاحیت کو متاثر کیے بغیر بہترین جنگی کارکردگی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ ان ڈرونز کو چلانے کے لیے آپریٹر کا انتہائی ماہر ہونا ضروری ہے، کیونکہ پرواز کے دوران کیبل کے کسی رکاوٹ میں الجھنے یا کٹ جانے کا خطرہ رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا استعمال زیادہ تر انتہائی حساس مشنز یا دشمن کے اعلیٰ قیمت والے اہداف کے خلاف کیا جاتا ہے۔