غزہ -(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب صہیونی دشمن کی سفاکیت اور انسانیت سوز مظالم کی زندہ تصویر بنے 13 فلسطینی اسیران کو قابض اسرائیلی حکام نے کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے رہا کر دیا ہے، جنہیں ریڈ کراس کی ٹیموں نے غزہ کی پٹی کے اندر منتقل کیا۔
قابض صہیونی عقوبت خانوں میں گذارے گئے بدترین ایام اور انسانیت سوز حالات کے نتیجے میں رہا ہونے والے اکثر اسیران شدید جسمانی نقاہت، کمزوری اور تھکن کا شکار ہیں۔ غزہ پہنچنے کے فوری بعد ان تمام سابق اسیران کو ان کی صحت کی جانچ اور طبی امداد کے لیے شہداء الاقصیٰ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے تفصیلی طبی معائنے کیے جا رہے ہیں۔
رہا ہونے والے ان مظلوم فلسطینیوں کی فہرست میں نشأت محمد دردونہ، نادر محمد ابو شحمہ، احمد نصر جابر، محمد ناصر ابو مغصیب، احمد نصر، حسن عطیہ النجار، رشدی داوود علون اور محمد اکرم علوان شامل ہیں۔
ان کے علاوہ عبد الرحمن زکریا المطوق، یوسف سعید ہنیہ، محمد عدنان ابو وردہ، حمزہ زائدہ البہنسی اور احمد داوود علوان کو بھی غاصب دشمن کی قید سے رہائی ملی ہے۔
رہا ہونے والے اسیران کے حوالے سے سامنے آنے والی گذشتہ رپورٹس اور چشم دید گواہوں کے بیانات صہیونی ریاست کی نسل کشی اور جنگی جرائم کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ ان اسیران کو دورانِ حراست بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا اور انہیں مسلسل ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جو کہ قابض اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جاری منظم سفاکیت کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ اپریل سنہ 2026ء میں بھی غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے اسیران کی کئی کھیپوں کو رہا کیا گیا جنہیں فوری طور پر شہداء الاقصیٰ ہسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔ ان میں 29 اپریل کو پانچ اور 26 اپریل کو کیسوفیم گیٹ کے ذریعے رہا ہونے والے 15 اسیران شامل تھے۔
ادارہ امورِ اسیران اور کلب برائے اسیران کے اعداد و شمار کے مطابق قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اس وقت 9600 سے زائد فلسطینی قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ ان میں سے غزہ کی پٹی کے لگ بھگ 1250 فلسطینیوں کو دشمن نے نام نہاد غیر قانونی جنگجو قرار دے رکھا ہے۔ ان اسیران میں 90 خواتین اور 350 کے قریب معصوم بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 3532 سے زائد فلسطینیوں کو بغیر کسی جرم یا مقدمے کے انتظامی حراست کے ظالمانہ قانون کے تحت قید رکھا گیا ہے۔