• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 22 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

غزہ کے اسیران کے لیے سزائے موت کا نیا قانون نسل کشی کی توثیق ہے

اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی "کنیست” کی جانب سے سات اکتوبر کے قیدیوں کے حوالے سے خصوصی قانون کی منظوری استعماری قانون سازی کے اس سلسلے کی ایک نئی اور خطرناک کڑی ہے جو فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کے جرم کو مزید تقویت دیتی ہے۔

بدھ 13-05-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم
0
غزہ کے اسیران کے لیے سزائے موت کا نیا قانون نسل کشی کی توثیق ہے
0
SHARES
19
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی "کنیست” کی جانب سے سات اکتوبر کے قیدیوں کے حوالے سے خصوصی قانون کی منظوری استعماری قانون سازی کے اس سلسلے کی ایک نئی اور خطرناک کڑی ہے جو فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کے جرم کو مزید تقویت دیتی ہے۔

مذکورہ قانون غزہ کے ان قیدیوں کے لیے ایک خصوصی عدالت کے قیام کا تقاضا کرتا ہے جن کے بارے میں قابض حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات میں حصہ لیا تھا، جس میں ان کے لیے سزائے موت کی سزا بھی شامل ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ قانون بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تنظیموں کے بیان کے مطابق یہ نیا قانون متعدد بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقوق کی پامالی کرتا ہے، جن میں سب سے اہم جینے کا حق، منصفانہ ٹرائل کا حق اور درست قانونی چارہ جوئی کی ضمانتیں شامل ہیں۔

بیان میں اس جانب بھی توجہ دلائی گئی کہ یہ قانون "ٹارچر (تشدد) اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا ذلیل آمیز سلوک اور سزا کی مطلق ممانعت” کی بھی خلاف ورزی ہے، جس کا سامنا فلسطینی اسیران کو قابض صہیونی عقوبت خانوں میں کرنا پڑ رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قانون میں شامل دفعات اس نسل پرستانہ قانون سازی کے راستے سے الگ نہیں ہیں جس کے تحت "کنیست” نے اس سے قبل فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کا قانون منظور کیا تھا۔

تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ نئی دفعات اس منظم قانون سازی کے تسلسل کے طور پر آئی ہیں جس کا مقصد فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے بین الاقوامی جرائم کو داخلی طور پر قانونی غلاف فراہم کرنا ہے۔

اسیران کی تنظیموں کے مطابق یہ رجحان اسرائیلی دہشت گردی کے نظام میں "کنیست” کے کردار کو ایک مرکزی آلے کے طور پر مستحکم کرتا ہے، جس نے براہِ راست نسل کشی کو تقویت دینے، ہمہ گیر جارحیت کو جاری رکھنے اور فلسطینی وجود اور ان کے قومی و انسانی حقوق کو نشانہ بنانے میں حصہ لیا ہے۔

اسرائیلی کنیست کی جنرل اسمبلی نے گذشتہ پیر کی شام دوسری اور تیسری ریڈنگ کے دوران 93 اراکین کی بھاری اکثریت سے "سات اکتوبر کے حملہ آوروں” کے خلاف مقدمہ چلانے کے خصوصی بل کی منظوری دی، جس کا ہدف ان فلسطینی قیدیوں پر مقدمہ چلانا ہے جن کے بارے میں قابض اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات میں ملوث تھے۔

یہ قانون قابض حکام کو ان افراد پر مقدمہ چلانے کی اجازت دے گا جنہیں وہ "انتہائی سنگین جرائم کے مرتکب” قرار دیتے ہیں، جن کی سزا موت تک ہو سکتی ہے، اور کسی بھی تبادلے کے معاہدے میں ان کی رہائی پر پابندی ہوگی۔

واضح رہے کہ اسرائیلی کنیست نے 30 مارچ سنہ 2026ء کو حتمی طور پر "فلسطینی اسیران کی سزائے موت کا قانون” 48 کے مقابلے میں 62 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کیا تھا۔ یہ قانون ان فلسطینی اسیران کے لیے پھانسی کی سزا تجویز کرتا ہے جنہیں "قتل کے آپریشنز” میں قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔

Tags: Gaza StripHuman RightsInternational LawisraellawlegislationMiddle EastPoliticsPrisonersRights Groups
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.