ساؤ پاؤلو – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی پر مسلط غیر انسانی محاصرہ توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے دوسرے قافلے میں شریک برازیلی سماجی کارکن تیاگو اویلا قابض اسرائیل کی جانب سے جبری بے دخلی کے بعد اپنے شہر ساؤ پاؤلو پہنچ گئے ہیں۔ تیاگو اویلا کو قابض اسرائیلی حکام نے کئی روز تک حراست میں رکھنے کے بعد ملک بدر کیا ہے۔
ساؤ پاؤلو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تیاگو اویلا نے انکشاف کیا کہ دس روزہ اسیری کے دوران انہیں بدترین تشدد اور سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہوں نے قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر نہتے فلسطینی اسیران پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
تیاگو اویلا نے جذباتی انداز میں کہا کہ میری واپسی محض ایک سنگین خلاف ورزی کی تصحیح ہے، قابض اسرائیل نے مجھے اغوا کیا تھا، میں قیدی نہیں تھا بلکہ مجھے اغوا کر کے محبوس رکھا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے ساتھ فلسطینی نژاد ہسپانوی سماجی کارکن سیف ابو کشک بھی موجود تھے اور ان دونوں کو اسیری کے دوران ہر قسم کی انسانیت سوز سفاکیت کا نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ تیاگو اویلا اور سیف ابو کشک گلوبل صمود فلوٹیلا کے اس دوسرے قافلے کا حصہ تھے جو 12 اپریل سنہ 2026ء کو سپین سے روانہ ہوا تھا۔ اس قافلے کا مقصد غزہ کی پٹی کے محصور عوام تک امداد پہنچانا اور قابض اسرائیل کے ظالمانہ محاصرے کو پاش پاش کرنا تھا۔
قابض اسرائیلی فوج نے کھلے سمندر میں اس قافلے کا راستہ روکا اور ان سماجی کارکنوں کو اغوا کر کے قابض اسرائیل منتقل کر دیا، جبکہ سو سے زائد دیگر عالمی کارکنوں کو زبردستی یونان کے جزیرے کریٹ بھیج دیا گیا۔
قابض اسرائیلی حکام نے ان سماجی کارکنوں پر دشمن کی مدد اور دہشت گرد گروہ سے رابطے جیسے بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے جنہیں انہوں نے قطعی طور پر مسترد کر دیا، جس کے بعد گذشتہ ہفتے ہفتہ کے روز انہیں رہا کر کے ملک بدری کے لیے امیگریشن حکام کے حوالے کیا گیا۔
برازیل پہنچنے پر تیاگو اویلا نے قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے ان کی شکست کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھانے کی اپیل کی۔ اس موقع پر ان کے حامیوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر برازیلی حکومت سے قابض اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب حیفا میں قائم عدالہ سینٹر نے انکشاف کیا ہے کہ اسیری کے دوران تیاگو اویلا اور سیف ابو کشک کو قتل اور طویل مدتی قید کی دھمکیاں دی گئیں۔
مرکز کے بیان کے مطابق تیاگو اویلا سے مسلسل کئی کئی گھنٹے تک تفتیش کی جاتی رہی جو بسا اوقات آٹھ آٹھ گھنٹوں پر محیط ہوتی تھی، جس کے دوران انہیں براہ راست جان سے مارنے یا سو سال تک جیل میں سڑانے کی دھمکیاں دی گئیں۔
مرکز نے مزید بتایا کہ ان سماجی کارکنوں کو قابض صہیونی عقوبت خانوں میں انتہائی تذلیل آمیز اور سخت حالات میں رکھا گیا۔ ان کے خلیوں میں چوبیس گھنٹے تیز روشنیاں جلائی جاتی تھیں اور درجہ حرارت کو انتہائی کم کر دیا جاتا تھا تاکہ انہیں نیند سے محروم رکھ کر حواس باختہ کیا جا سکے، جو کہ نفسیاتی تشدد کی بدترین شکل ہے۔
عدالہ سینٹر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ طبی معائنے سمیت ہر نقل و حرکت کے دوران ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی جاتی تھیں، جو نہ صرف طبی اخلاقیات کے منافی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔