مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی حکومت مغربی کنارے میں اپنے توسیعی منصوبوں کو تیز تر کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جس کے تحت موجودہ بستیوں کی توسیع اور نئے استعماری اڈوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ یہ پالیسی زمینی حقائق کو مسخ کرنے اور فلسطینی اراضی پر غاصبانہ تسلط کو مزید گہرا کرنے کے لیے اپنائی گئی ہے۔
قابض اسرائیلی حکام نے رام اللہ کے شمال میں فلسطینیوں کی اراضی پر زبردستی قائم کی گئی بیت ایل بستی میں زمین کی نام نہاد تصفیہ کے طریقہ کار کو مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد وسیع پیمانے پر آباد کاری کے منصوبوں کا آغاز کرنا ہے جن میں پہلے مرحلے کے طور پر 1200 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور نئی سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔
عبرانی چینل 14 کے مطابق یہ قدم برسوں کی قانونی اور انتظامی کارروائیوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ قابض حکومت نے ان اقدامات کو قانونی رکاوٹیں دور کرنے کا نام دیا ہے تاکہ اس بستی کی بے مثال توسیع کی جا سکے اور مستقبل میں اسے ایک توسیعی شہر میں تبدیل کیا جا سکے۔
قابض اسرائیلی وزارت دفاع میں آباد کاری کے وزیر اور وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض حکومت زمین پر انقلاب لانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور بیت ایل میں اراضی کا تصفیہ ان کے نزدیک ایک قومی فریضہ ہے۔
بزلئیل سموٹریچ نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں فوری طور پر 1200 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے تفصیلی نقشوں کا اجرا شامل ہے جبکہ بستی کی طرف جانے والی سڑک کو دو رویہ کیا جائے گا تاکہ آباد کاروں کی متوقع تعداد میں اضافے کو سنبھالا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قدم مغربی کنارے میں اسرائیلی تسلط کو گہرا کرنے کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے اور قابض حکومت عالمی تنقید کے باوجود آباد کاری میں توسیع جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب بیت ایل بستی کی انتظامیہ نے اس منصوبے کو ایک تاریخی اصلاح قرار دیا ہے جو نئی نسل کو بستی میں رہنے اور اس کی توسیع کا موقع فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ بندی کی پابندیاں ختم ہونے سے آنے والے برسوں میں بستی کی شکل مکمل طور پر بدل جائے گی۔
آباد کاروں کی نئی بستی
اسی تناظر میں آباد کاروں نے آج پیر 11 مئی سنہ 2026ء کو رام اللہ کے مشرق میں واقع قصبے رمون کی اراضی پر جسر الخلہ کے علاقے میں ایک نئی بستی قائم کر لی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم البیدر نے رپورٹ دی ہے کہ آباد کاروں نے شہریوں کی زمینوں پر خیمے اور موبائل ہومز نصب کر کے اس نئی بستی کا قیام شروع کیا ہے۔ اس قدم کا مقصد علاقے پر تسلط قائم کرنا اور مقامی آبادی کو زبردستی ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔
تنظیم نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ عرصے میں جسر الخلہ کا علاقہ فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے حملوں کے ایک مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔
اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے ہی مغربی کنارے میں آباد کاری کی رفتار میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بستیوں کی توسیع، بائی پاس سڑکوں کی تعمیر اور نئے استعماری مراکز کا قیام فلسطینیوں اور ان کی املاک پر آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی سفاکیت کے متوازی جاری ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں کا مقصد فلسطینی برادریوں کو الگ تھلگ کرنا اور ان کے درمیان جغرافیائی رابطے کو منقطع کرنا ہے تاکہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو ختم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ اور دنیا کے بیشتر ممالک مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آباد کاری کو بین الاقوامی قانون اور عالمی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہیں جو سنہ 1967ء کی مقبوضہ اراضی پر قائم بستیوں کی غیر قانونی حیثیت کی تائید کرتی ہیں۔