• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
پیر 11 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

امریکہ اور اسرائیل کا 75 سالہ گٹھ جوڑ(۱)

امریکہ اور اسرائیل کا 75 سالہ اتحاد: ایک تاریخی جائزہ

پیر 11-05-2026
in خاص خبریں, فلسطین, مقالا جات
0
امریکہ اور اسرائیل کا 75 سالہ گٹھ جوڑ(۱)
0
SHARES
3
VIEWS

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ)غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا سرزمین فلسطین پر ناجائز قیام اور اس کے بعد مسلسل اسرائیل کو استثنائی حیثیت دینے میں امریکہ کا بھرپور کردار رہاہے۔ اس حوالے سے گذشتہ کالم جس میں یوم نکبہ اور فلسطینیوں کے حق واپسی کی مہم کو بھی اجاگر کیا گیا تھا اس تحریر میں کچھ شواہد بیان کئے گئے تھے۔اس کالم میں امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد اور گٹھ جوڑ سے متعلق مزید گفتگو پیش کی جائے گی۔
امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو محض ایک روایتی اتحاد سمجھنا حقیقت کا ادھورا بیان ہوگا۔بلکہ یہ ایک شیطانی گٹھ جوڑ کے مترادف ہے کہ جہاں ایپسٹین فائلز جیسے کالے کرتوت بھرے پڑے ہیں۔امریکہ اور اسرائیل کا یہ رشتہ دراصل ایک ایسی گہری اور پیچیدہ شیطانی شراکت داری ہے جو سات دہائیوں سے زیادہ عرصے میں مرحلہ وار پروان چڑھی ہے۔امریکی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے کہ آج صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل امریکی پشت پناہی کے بغیر اپنے وجود کا تصور نہیں کر سکتا، جبکہ امریکہ بھی اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی قومی سلامتی کے بنیادی ستون کے طور پر دیکھتا ہے۔کیونکہ امریکہ کے کئی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل سے زیادہ موزوں کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اس غیرمعمولی تعلق اور گٹھ جوڑ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تاریخی اور ساختی سفر کو مرحلہ وار دیکھا جائے۔
اس حوالے سے اگر ہم سنہ 1948 سے لے کر 1967 کے درمیان عرصہ کی بات کریں تو یہ وہ زمانہ تھا جب اسرائیل کو عسکری سازوسامان زیادہ تر یورپ سے ملتا تھا، مگر سیاسی جواز اور عالمی سطح پر پشت پناہی امریکہ فراہم کر رہا تھا۔یعنی امریکہ ہر عالمی فورم پر اسرائیل کی مکمل حمایت کرتا تھا۔14 مئی 1948 کو جب اسرائیل نےفلسطین پر اپنے قبضہ کا اعلان کیا اور 15 مئی کو فلسطین میں ایک بہت بڑی تباہی یعنی نکبہ ہوا تو اس وقت بھی امریکہ ہی تھا جس نے غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے فلسطین پر قبضہ جمانے اور اسرائیل کے ناجائز قیام کے اعلان کے صرف 11 منٹ بعد اسے تسلیم کر لیا۔ امریکہ کا یہ اقدام نہ صرف علامتی تھا بلکہ عالمی سفارت کاری میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا تھا۔واشنگٹن نے لاطینی امریکی ممالک اور فرانس پر اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے حق میں مطلوبہ حمایت حاصل کی۔ اسی دوران امریکی یہودی برادری اور عیسائی صہیونی حلقوں نے امریکی سیاست میں اسرائیل کے حق میں مضبوط لابنگ کی۔نتیجہ یہ نکلا کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے وجود کو اقوام متحدہ میں تسلیم کر لیا گیا اور پھر 15 مئی کوفلسطین میں ایک بہت بڑا قتل عام اور تباہی شروع کی گئی جسے آج بھی یوم نکبہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس زمانہ میں اگرچہ امریکہ سیاسی سطح پر اسرائیل کا حامی تھا، مگر عسکری مدد محدود تھی۔ اس کے دو بنیادی اسباب تھے ۔ پہلا یہ کہ امریکہ نے 1960 کی دہائی تک غرب ایشیائی خطے میں ہتھیار بھیجنے سے گریز کی پالیسی اپنائی ہوئی تھی تاکہ سوویت یونین کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے۔دوسری وجہ یہ تھی کہ واشنگٹن کو خدشہ تھا کہ اگر اسرائیل کو کھلی فوجی امداد دی گئی تو سرد جنگ مزید شدت اختیار کرے گی اور عرب ممالک سوویت یونین کے زیادہ قریب چلے جائیں گے۔لیکن امریکہ کے لئے اسرائیل ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا اور اس وجہ سے اس اوائل کے زمانہ میں امریکہ نے کھل کر اسرائیل کو سفارتی اور سیاسی مدد کی فراہمی جاری رکھی اور غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے تمام سیاہ کرتوتوں کی عالمی سطح پر پردہ پوشی کی گئی ۔
اگر چہ امریکہ نے اس شروع کے زمانہ میں اسرائیل کو ہتھیار فراہم نہیں کئے تھے لیکن اسرائیل نے پھر اتنے ہتھیار کہاں سے حاصل کئے تھے ؟ اور اس عرصہ میں سنہ1948سے لے کے 1967کی جنگ بھی عربو ں کے خلاف لڑی ۔ اس سوال کا جواب تحقیق سے ملتا ہے کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل نے اس دور میں اپنے جنگی طیارے، میزائل اور دیگر عسکری سازوسامان زیادہ تر فرانس سے حاصل کئے، جبکہ کچھ تعاون برطانیہ سے بھی ملا۔عام اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے جوہری پروگرام کی بنیاد بھی فرانس نے رکھی تھی ، جس کے تحت 1956 سے 1963 کے درمیان دیمونا ری ایکٹر تعمیر کیا گیا۔
1956 کی نہر سوئز پر ہونے والی جنگ سمیت اس دور کی بڑی فوجی کارروائیوں میں بھی یورپی کردار نمایاں تھا، نہ کہ امریکی۔اس بات کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ یورپی کردار نمایاں تھا تو امریکہ اس جرم کا شریک نہیں تھا ۔یہ تمام حقائق اس امر سے متصادم نہیں کہ امریکہ اسرائیل کا بنیادی سرپرست تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس دور میں واشنگٹن کا کردار زیادہ تر سیاسی تھا، عسکری نہیں۔امریکہ نے عالمی اداروں، سفارتی دباؤ اور سیاسی حمایت کے ذریعے اسرائیل کی بقا کو یقینی بنایا، جبکہ میدانِ جنگ کے وسائل یورپ سے آتے رہے۔امریکی حکومت اسرائیل کے ان تمام جرائم کو کہ جو اس زمانہ میں خطے میں انجام پا رہے تھے ان سب پر خاموش تھی اور ساتھ ساتھ عالمی اداروں میں اسرائیل کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہی تھی۔
اگر یہاں پر صرف 15 مئی نکبہ کے دن کی ہی بات کریں تو اسرائیل نے یورپی اسلحہ کی مدد سے 15 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ان کے وطن اورگھر سے جبری طور پر جلا وطن کیا لیکن امریکی حکومت نے انسانی حقوق کی پامالی کا کوئی نعرہ بلند نہیں کیا کیونکہ اسرائیل کو مکمل استثنیٰ دیا گیا تھا۔ یہ بات آج بھی ظاہر ہے کہ جب فلسطینی عوام فلسطین واپسی کے حق کی بات کر رہے ہیں اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ میں قرار داد نمبر 194 اسی عنوان سے موجود ہے لیکن امریکی حکومت اور اس کے اتحادی فلسطینیوں کے حقوق کے حصول میں سب ست بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ سنہ1950سے 1960 کے درمیان کے عرصہ میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کچھ عسکری تعاون بھی شروع ہوا تھا لیکن وہ زیادہ قابل ذکر نہیں تھا لیکن اس مرحلے میں دونوں ممالک کے درمیان نرم نوعیت کے تعاون کاجو آغاز ہوا،اس میں اسرائیل کے لئے مریکی امدادی ادارے USAID کے ذریعے ابتدائی معاشی مدد،زرعی اور تکنیکی تعاو ن ،محدود نوعیت کے ریڈار معاہدے،ابتدائی انٹیلی جنس روابط ور پھر 1966 سے امریکی اسلحے کی باضابطہ فروخت، جیسا کہHawk میزائل نظام، اور محدود تعداد میں A-4 اور F-4 طیارے بھی امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کئے جاتے رہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ 1948 سے 1967 تک کا دور دراصل امریکہ اور اسرائیل کے اس تعلق کی بنیاد رکھنے کا زمانہ تھا۔ اسرائیل کو عسکری طاقت یورپ سے ملی، مگر عالمی قانونی حیثیت، سفارتی تحفظ اور سیاسی چھتری امریکہ نے فراہم کی۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر بعد میں امریکہ اوراسرائیل تعلقات ایک مکمل عسکری و اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہوئے۔آئندہ کالم میں مزید تفصیلات کو بیان کیا جائے گا۔

Tags: AnalysisDiplomacyforeign policyHistoryinternational relationsisraelMiddle EastPoliticsUnited StatesWorld Affairs
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.