غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی بحریہ نے غزہ کے ساحل پر مچھلی پکڑنے کے دوران تین سگے بھائیوں کو اغوا کر لیا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے ماہی گیروں کی کشتی کا راستہ روکا اور انہیں زبردستی نامعلوم مقام کی جانب منتقل کر دیا۔
غزہ کی پٹی میں ماہی گیروں کے نمائندے زکریا بکر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اغوا کیے جانے والے تینوں بھائیوں کے نام سعید، معاذ اور محمد عادل ابو ریالہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان ماہی گیروں کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ سمندر میں اس مقررہ حدود کے اندر مچھلیاں پکڑ کر رزق حلال کما رہے تھے جو قابض افواج نے ماہی گیروں کے لیے مخصوص کر رکھی ہیں۔ یہ سب کچھ ان سخت پابندیوں کے سائے میں ہو رہا ہے جو قابض بحریہ نے سمندر میں ماہی گیری پر نافذ کر رکھی ہیں۔
یہ واقعہ فلسطینی ماہی گیروں کے خلاف قابض اسرائیل کی جاری سفاکیت اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا ایک حصہ ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں آئے روز کی گرفتاریاں، فائرنگ اور کشتیوں کی ضبطگی شامل ہے، جس کا مقصد فلسطینی خاندانوں کے معاشی حالات کو مزید ابتر بنانا اور ان کے اپنے وسائلِ رزق تک رسائی کے حق کو پامال کرنا ہے۔
غزہ کی پٹی میں سینکڑوں خاندانوں کی گزر اوقات کا دارومدار ماہی گیری کے پیشے پر ہے، لیکن سمندری حدود پر عائد مسلسل پابندیوں اور ماہی گیروں کو براہ راست نشانہ بنانے کی پالیسیوں کی وجہ سے مچھلیوں کی پیداوار میں شدید کمی واقع ہوئی ہے اور اس اہم شعبے سے وابستہ افراد میں غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔