الخلیل – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غاصب یہودی آباد کاروں کی مسلح ملیشیاؤں نے آج پیر کے روز الخلیل کے جنوبی علاقے مسافر یطا میں فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک پر وحشیانہ حملے کیے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ فوجی وردی میں ملبوس غاصب آباد کاروں نے مسافر یطا کے علاقے حوارہ میں فلسطینی شہری ہشام الصریع کے گھر پر دھاوا بولا اور گھر کی تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔
اس کے علاوہ غاصب آباد کاروں نے علی الصبح مسافر یطا کے گاؤں التوانہ پر دھاوا بولا اور وہاں ایک شہری مجد ربعی کی گاڑی کے ٹائر پنکچر کر دیے جبکہ وہاں موجود غیر ملکی رضاکاروں کی گاڑی پر بھی حملہ کیا۔
گذشتہ روز بھی غاصب آباد کاروں نے مسافر یطا کے علاقے رجوم اعلیٰ میں فلسطینی شہری اسماعیل العدرہ کے زیتون کے 20 سے زائد پودے اکھاڑ کر توڑ ڈالے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی مویشی فصلوں میں چھوڑ کر بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔
یہ سفاکیت اس وقت سامنے آئی جب غاصب آباد کاروں نے مسافر یطا ہی کے علاقے وادی ابو شبان میں فلسطینی چرواہوں کو ان کی چراگاہوں سے زبردستی نکالنے کی کوشش کی۔
اسی دوران قابض اسرائیل کی افواج نے یطا کے صحرائی علاقے خشم الدرج کے قریب وادی القراشیہ میں فلسطینی شہری خالد سلیمان البدور کے ڈیرے، غار کے حصوں، رہائشی مکان اور بھیڑوں کے باڑے کو مسمار کر دیا اور ایک خیمہ بھی ضبط کر لیا۔
علاوہ ازیں فوجی وردی میں ملبوس غاصب آباد کاروں نے یطا کے مشرقی علاقے ماعین۔الخالدیہ روڈ پر ایک فلسطینی نوجوان محمد توفیق الحمامدہ کو یرغمال بنا کر اسے سخت تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے مجبور کیا کہ وہ اپنی گاڑی کی فیول ٹینک میں مٹی بھرے، ساتھ ہی اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق قابض اسرائیل نے سنہ 2025ء کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں تقریباً 40 ہزار فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا ہے، جو کہ گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران مغربی کنارے میں نقل مکانی کی سب سے بڑی لہر ہے۔
عالمی ادارے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسلسل فوجی کارروائیوں، گھروں کی مسماری اور شہریوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے ہزاروں خاندانوں کو زبردستی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ شمالی مغربی کنارے میں انسانی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ مسماری اور جبری بے دخلی کے آپریشنز جاری ہیں جبکہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو پناہ گاہوں اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔