• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
پیر 11 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

صہیونی انتہا پسندوں کی مسجد اقصیٰ پر بڑے حملے کی تیاری کا خدشہ

مقبوضہ بیت المقدس میں انتباہات کی لہر میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے جہاں انتہا پسند ہیکل گروہ رواں ماہ جمعہ 15 مئی سنہ 2026ء کو، جسے وہ بیت المقدس پر قبضے کی عبرانی برسی قرار دیتے ہیں، مسجد اقصیٰ پر ایک بے مثال حملے اور یلغار کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

پیر 11-05-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم
0
صہیونی انتہا پسندوں کی مسجد اقصیٰ پر بڑے حملے کی تیاری کا خدشہ
0
SHARES
0
VIEWS

مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ بیت المقدس میں انتباہات کی لہر میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے جہاں انتہا پسند ہیکل گروہ رواں ماہ جمعہ 15 مئی سنہ 2026ء کو، جسے وہ بیت المقدس پر قبضے کی عبرانی برسی قرار دیتے ہیں، مسجد اقصیٰ پر ایک بے مثال حملے اور یلغار کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب فلسطینیوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں اعتکاف، پہرے داری اور بڑی تعداد میں وہاں پہنچنے کی بھرپور اپیلیں کی جا رہی ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس کے امور کے ماہر اور محقق زیاد ابحیص نے کہا ہے کہ اس سال خطرے کی شدت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہ نام نہاد مناسبت جمعہ کے دن آ رہی ہے۔ عام طور پر جمعہ کے روز آباد کاروں کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخلے اور یلغار کے دروازے بند رہتے ہیں، لہٰذا اس حقیقت کو بدلنے کی کوئی بھی کوشش مسجد اقصیٰ پر حملوں کی نوعیت میں ایک انتہائی خطرناک موڑ ثابت ہو گی۔

ابحیص نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ میں ہزاروں فلسطینی نمازیوں کا والہانہ جوش و خروش اور بڑا اجتماع ہوتا ہے، جس کی وجہ سے آباد کاروں کی جانب سے ممکنہ یلغار ایک خود مختاری کی جنگ کی صورت اختیار کر لے گی جس کے ذریعے قابض اسرائیل حرم قدسی کے اندر نئے حقائق مسلط کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔

نئے حقائق مسلط کرنے کی کوششیں

زیاد ابحیص نے بتایا کہ انتہا پسند ہیکل گروہ مرحلہ وار تین اہداف حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ پہلا ہدف یہ ہے کہ جمعہ کی صبح معمول کے اوقات، یعنی صبح ساڑھے چھ سے ساڑھے گیارہ بجے کے درمیان، مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ گروہ صبح کے وقت اس ناپاک مقصد میں ناکام رہے تو ان کی کوشش ہو گی کہ نمازِ جمعہ کے بعد دوپہر دو سے ساڑھے تین بجے کے درمیان یلغار کی جائے، جو کہ سنہ 1967ء میں بیت المقدس پر غاصبانہ قبضے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی انتہا پسند اپنی ان حرکات کے لیے ان گذشتہ مثالوں سے سہارا لے رہے ہیں جب قابض حکام نے اسلامی مناسبات کے دوران یلغار نہ کرنے کے قاعدے کو توڑنے کی کوشش کی تھی، جن میں سنہ 2019ء میں عید الاضحیٰ کے موقع پر مسجد اقصیٰ پر حملہ نمایاں ہے۔

اسی طرح انہوں نے سنہ 2021ء میں اٹھائیس رمضان المبارک کو مسجد میں گھسنے کی کوشش کو بھی یاد دلایا، جس نے بعد ازاں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں مرابطین کی جانب سے بھرپور دفاع کے بعد معرکہ سیف القدس کی راہ ہموار کی تھی۔

سیاسی سرپرستی اور آباد کاروں کی صف بندی

ابحیص نے توجہ دلائی کہ ہیکل گروہوں نے آباد کاروں کو متحرک کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جس کے تحت ایک ایسی پٹیشن جاری کی گئی ہے جس میں آئندہ جمعہ کو مسجد اقصیٰ کے اندر اسرائیلی پرچم لہرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان اشتعال انگیز اقدامات کو لیکود اور مذہبی صیہونیت نامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وزراء اور ارکانِ کنیسٹ کی بڑھتی ہوئی سیاسی حمایت حاصل ہے، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ اس گھناؤنے منصوبے کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تین وزراء اور دس ارکانِ کنیسٹ سمیت 13 اسرائیلی سیاست دانوں نے قابض پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمعہ کے روز یلغار کی اجازت دے، یا اس کے بدلے جمعرات 14 مئی سنہ 2026ء کی شام یلغار کے لیے اضافی وقت فراہم کرے۔

حملوں کے اوقات میں توسیع

مقدسی محقق نے بتایا کہ ہیکل گروہوں کا دوسرا ہدف جمعرات کو نمازِ عصر کے بعد یلغار کا ایک نیا وقت مقرر کروانا ہے، تاکہ مستقبل میں مسجد اقصیٰ کے اندر روزانہ حملوں کے اوقات کو بڑھا کر تقریباً نو گھنٹے تک پہنچایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتہا پسند گروہ عصر کے بعد کے وقت میں یلغار کو پختہ کرنے کو مسجد اقصیٰ کے اندر نام نہاد مساوی حق کے نظریے کو تھوپنے کے لیے ایک مرکزی قدم قرار دیتے ہیں۔

ابحیص کے مطابق تیسرا ہدف اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی ان کوششوں سے متعلق ہے جس میں وہ مسقف نماز گاہوں، بالخصوص قبۃ الصخرہ اور جامع القبلی کے اندر گھسنے اور وہاں حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

پہرے داری.. دفاع کی آخری دیوار

ان خطرناک منصوبوں کے مقابلے میں ابحیص نے زور دے کر کہا کہ مسجد اقصیٰ میں رباط اور پہرے داری ہی وہ آخری دیوار ہے جو مسجد کی حفاظت کر سکتی ہے اور نئے حقائق مسلط کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔

انہوں نے فلسطینیوں سے اپیل کی کہ وہ جمعرات 14 مئی کی دوپہر سے اور جمعہ کی نمازِ فجر کے وقت سے ہی مسجد میں اپنی موجودگی کو تیز کر دیں اور قابض اسرائیل کی جانب سے ممکنہ رکاوٹوں کے باوجود مسجد کے اندر اعتکاف کی کوشش کریں۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ قابض پولیس کی جانب سے اب تک واضح موقف سامنے نہ آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے اندر فلسطینیوں کے بڑے عوامی اجتماع سے خوفزدہ ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان سازشوں کی ناکامی کا تمام تر دارومدار اگلے دو دنوں کے دوران مسجد میں فلسطینیوں کی موجودگی اور رباط پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پیش رفتوں کا نکہ کے 78ویں سال کے ساتھ ہم آہنگ ہونا مسجد اقصیٰ کو ایک ہمہ گیر قومی جہت عطا کرتا ہے، کیونکہ مسجد کی حفاظت ہی دراصل قومی تشخص، حقِ واپسی کی حفاظت اور دشمن کے خاتمے کے منصوبوں کی ناکامی کا نام ہے۔

Tags: Al-Aqsa Mosquebreaking newsisraeljerusalemMiddle EastOccupied JerusalempalestineReligious SiteSecurityTensions
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.