جنوبی لبنان – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) لبنانی تنظیم حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں قابض اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں، فوجی گاڑیوں اور ایک کمانڈ ہیڈ کوارٹر کو ڈرون طیاروں اور توپ خانے کے گولوں سے نشانہ بناتے ہوئے 3 اہم فوجی کاررائیاں انجام دینے کا اعلان کیا ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری کردہ الگ الگ بیانات میں کہا گیا ہے کہ یہ کاررائیاں لبنان اور اس کے غیور عوام کے دفاع میں کی گئی ہیں۔ یہ کاررائیاں قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں اور جنوبی لبنان کے دیہاتوں پر وحشیانہ حملوں کا بھرپور جواب ہیں، جن کے نتیجے میں متعدد شہری جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بیانات میں مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ کے مجاہدین نے جنوبی لبنان کے ضلع مرجعیون میں واقع قصبے دیر سریان کے علاقے خلہ راج میں ایک خودکش ڈرون کے ذریعے قابض اسرائیلی فوج کے ڈی نائن (D9) بلڈوزر کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس سے اسے شدید نقصان پہنچا۔
دوسری کارروائی میں حزب اللہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے دو ڈرون طیاروں کی مدد سے ضلع مرجعیون کے شہر الخیام میں قابض اسرائیلی فوج کے ایک کمانڈ ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے ٹھکانے پر درست نشانہ لگا اور یقینی جانی و مالی نقصان ہوا۔
تنظیم نے اپنی تیسری کارروائی کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے الخیام بلدیہ کے قریب قابض اسرائیلی فوج کے اہلکاروں اور فوجی گاڑیوں کے ایک اجتماع کو توپ خانے کے گولوں سے نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ حزب اللہ کے فائبر آپٹک ٹیکنالوجی سے لیس ڈرون طیارے قابض اسرائیلی فوج کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، جو صہیونی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا سبب بن رہے ہیں۔ تل ابیب نے بھی باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ ان ڈرون طیاروں کا سراغ لگانا اور انہیں فضا میں ناکارہ بنانا انتہائی دشوار امر ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ 17 اپریل سنہ 2026ء کو دس روزہ جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا. بعد ازاں رواں ماہ 17 مئی سنہ 2026ء تک بڑھا دیا گیا تھا۔ تاہم قابض اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر اس سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور جنوبی لبنان کے درجنوں دیہاتوں میں مکانات کو بمباری اور دھماکوں سے اڑا کر خونریزی اور سفاکیت کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔