رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مرکز برائے دفاع اسیران فلسطین نے اپنے ایک بیان میں متنبہ کیا ہے کہ قابض اسرائیل کے وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کے اسیران کو سزائے موت دینے کے قانون پر عملدرآمد سے متعلق حالیہ بیانات اس بدنیتی کو ظاہر کرتے ہیں جس کے تحت قانونی لبادے میں زیادہ سے زیادہ فلسطینی اسیران کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
مرکز نے اپنے جاری کردہ بیان میں وضاحت کی ہے کہ ایتمار بن گویر کا یہ کہنا کہ یہ قانون تقریباً 80 فیصد اسیران پر لاگو ہو سکتا ہے، بالخصوص مغربی کنارے کے اسیران اور نام نہاد نخبہ ارکان کی اس میں شمولیت، اس واضح رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کی نسل کشی کے دائرے کو مزید وسیع کرنا ہے۔
بیان میں اس امر کی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیل کے حکام غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں معتقلین کو، جن کی تعداد تقریباً 1450 بتائی جاتی ہے، ایلیٹ جنگجو قرار دے کر ان پر اس قانون کے اطلاق کے لیے زمین ہموار کر رہے ہیں۔
مرکز برائے دفاع اسیران نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بیانات ان سابقہ دعوؤں کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں جن میں اس قانون کے محدود اطلاق یا اس پر عملدرآمد کی دشواری کا ذکر کیا گیا تھا، بلکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ قانون قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر فلسطینیوں کو قتل کرنے کے لیے ایک باقاعدہ اجرتی آلے کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔
مرکز نے مزید کہا کہ اسیران کے خلاف کی جانے والی اس قانون سازی کو روایتی قانون نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ خالصتاً انتقام پر مبنی ایک ایسا سیاہ قانون ہے جس کا مقصد ایک منظم پالیسی کے تحت فلسطینی اسیران کی جسمانی تصفیہ اور ان کی نسل کشی کرنا ہے۔