مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) القدس انٹرنیشنل سینٹر کے سربراہ حسن خاطر نے قابض اسرائیلی حکام کے اس فیصلے کا انکشاف کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے جس کے تحت یہودی ربیوں سمیت 600 آباد کاروں کو روزانہ کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حسن خاطر نے اپنے اخباری بیان میں واضح کیا کہ یہ اقدام مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت کو نشانہ بنانے کی سمت میں ایک سنگین ترین پیش رفت ہے اور انہوں نے قابض اسرائیل کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تباہ کن نتائج سے خبردار کیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اصل اور مستند خبر وہ ہے جو گذشتہ روز اسرائیلی سپریم کورٹ کی جانب سے سامنے آئی جس نے عملی طور پر اس منظم جارحیت اور دھاوے کو قانونی جواز فراہم کر دیا ہے، جس کا اثر بڑے پیمانے پر ہونے والے ان دھاووں کی صورت میں نظر آیا جنہوں نے القدس کی گلیوں اور عرب دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
حسن خاطر کا کہنا تھا کہ اب مسجد اقصیٰ کے ساتھ صرف ایک مذہبی مسئلے کے طور پر سلوک نہیں کیا جا رہا بلکہ اب اس کے سیاسی پہلو واضح ہو کر سامنے آ گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف تو آباد کاروں کو اتنی بڑی تعداد میں حملے کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کے وہاں داخلے پر کڑی پابندیاں عائد ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قبلہ اول کی تالا بندی یا وہاں تک رسائی کو محدود کرنے کے اقدامات کا ان سکیورٹی وجوہات سے کوئی تعلق نہیں ہے جن کا دعویٰ قابض اسرائیلی حکام کرتے ہیں، بلکہ یہ تمام اقدامات مسجد اقصیٰ پر زبردستی اپنی خود مختاری اور کنٹرول مسلط کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ پالیسیاں مقدس شہر میں کشیدگی کو مزید ہوا دیں گی۔ حسن خاطر نے عرب اور اسلامی دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے خلاف بڑھتی ہوئی ان خلاف ورزیوں کو روکنے اور اس کی مذہبی و تاریخی شناخت کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔
واضح رہے کہ غاصب صہیونی دشمن کی افواج مسلسل 38ویں روز بھی مسجد اقصیٰ کی تالا بندی کیے ہوئے ہیں اور وہاں نماز کی ادائیگی پر پابندی برقرار ہے۔ دوسری جانب انتہا پسند آباد کاروں کے لیے حائط البراق کے دروازے کھولنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ وہاں اپنی نام نہاد "برکت الکہنہ” کی دعا کر سکیں۔