غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) یورپی یونین نے تمام حالات میں سزائے موت کو قطعی طور پر مسترد کرنے کا اظہار کرتے ہوئے قابض اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے فلسطینی اسیران کے خلاف سزائے موت کے قانون کی منظوری کے نتائج پر سخت خبردار کیا ہے۔
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور اور سکیورٹی پالیسی کایا کالاس کے نام سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قابض اسرائیل نے ایک طویل عرصے سے سزائے موت کے احکامات پر عمل درآمد روکنے کا عملی عہد کر رکھا تھا لیکن اس قانون کی منظوری اس سابقہ مروجہ روایت اور اپنے گذشتہ وعدوں سے ایک خطرناک انحراف ہے۔
امتیازی نوعیت پر تشویش
یورپی یونین نے اس قانون کی امتیازی نوعیت پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور قابض اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے اور دونوں فریقین کے درمیان شراکت داری کے معاہدے کی شقوں کے مطابق جمہوری اصولوں کا احترام کرے۔
حق زندگی کی سنگین خلاف ورزی
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سزائے موت حق زندگی کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ تشدد یا بدسلوکی کا نشانہ نہ بننے کے مطلق حق کو مجروح کیے بغیر اس سزا پر عمل درآمد ممکن نہیں ہے۔
بیان میں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں جو یہ ثابت کریں کہ یہ سزا کوئی روک تھام کا اثر رکھتی ہے جبکہ یورپی یونین نے ہر طرح کے حالات میں سزائے موت کے خلاف اپنے مستقل اور غیر متزلزل موقف کا اعادہ کیا ہے۔