استنبول – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کسی بھی بہانے سے مسجد اقصیٰ کے اندر مسلمانوں کی عبادت کے حق کو روکنا یا اس پر پابندی عائد کرنا ممکن نہیں ہے۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں اپنی جماعت عدالت و ترقی کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
صدر طیب ایردوآن نے اس المیے کی جانب اشارہ کیا کہ سنہ 1967ء کے بعد پہلی بار اس سال مسجد اقصیٰ میں عید کی نماز ادا نہیں کی جا سکی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طے شدہ عالمی قواعد و ضوابط کو اس طرح نظر انداز کرنا دو ارب مسلمانوں کے عقیدے پر ایک کھلا اور سفاکانہ حملہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی حیلے بہانے سے مسجد اقصیٰ کے مقدس احاطے میں مسلمانوں کو ان کے عبادت کے حق سے محروم کرنا یا اس پر قدغن لگانا ناقابل قبول ہے۔
طیب ایردوآن نے واضح کیا کہ ان کی حکومت اپنی اس خارجہ پالیسی سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی جس کی بنیاد تمام انسانوں کے لیے امن، استحکام اور اطمینان کے حصول پر رکھی گئی ہے۔
انہوں نے اس سنگین صورتحال کی بھی تصدیق کی کہ ایران پر مسلط جنگ اب بھی ہمارے پورے خطے کو خون اور بارود کی بو سے گھٹ رہی ہے اور معصوم و بے گناہ بچے اپنے سکولوں میں سبق سنتے ہوئے میزائلوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
طیب ایردوآن نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہر کسی کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہم اپنے بھائیوں اور پڑوسیوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اس وقت ہرگز خاموش تماشائی بن کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے جب ہمارے بھائی شدید مصائب اور سفاکیت کا شکار ہوں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہمارا خطہ گذشتہ ایک صدی کے سب سے زیادہ تکلیف دہ دور سے گزر رہا ہے جہاں نفرت میں ڈوبی ہوئی نسل کشی کی ایک منظم لہر مذہبی بہانوں کی آڑ میں پورے خطے کو ایک عظیم تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔
انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ بنجمن نیتن یاھو کی حکومت صرف ہمارے پڑوسی ملک ایران کو ہی نشانہ بنانے پر اکتفا نہیں کر رہی بلکہ وہ لبنان پر قدم بہ قدم قبضے کے اپنے مذموم منصوبوں پر بھی عمل پیرا ہے۔
صدر ترکیہ نے اس عزم کو دہرایا کہ ترکیہ اور اس کے غیور عوام مشکل کی اس گھڑی میں ان اقوام کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے جنہیں ہم اپنا دوست اور بھائی تصور کرتے ہیں۔
انہوں نے دل گرفتہ انداز میں کہا کہ میں لہو روتے دل کے ساتھ یہ سوال پوچھتا ہوں کہ اصفہان اور تہران میں بہنے والے آنسوؤں اور اربیل، بغداد، بیروت اور ریاض میں گرنے والے آنسوؤں میں آخر کیا فرق ہے؟
ترک صدر نے کہا کہ اگرچہ یہ جنگ قابض اسرائیل کی مسلط کردہ ہے مگر اس کی انتہائی بھاری قیمت سب سے پہلے مسلمانوں اور پھر پوری انسانیت کو چکانی پڑ رہی ہے۔
انہوں نے برہمی کے ساتھ سوال اٹھایا کہ ان ظالم حملہ آوروں کی نظر میں جو گذشتہ 27 دنوں سے کسی بھی انسانی اصول، قدر یا معیار کا لحاظ نہیں کر رہے کیا اس بات سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ ہم شیعہ ہیں یا سنی، ترک ہیں یا کرد، عرب ہیں یا فارسی؟
انہوں نے پرامید لہجے میں کہا کہ جب موت بانٹنے والے بموں اور میزائلوں کا شور تھم جائے گا تو ہمیں پھر سے اسی خطے میں ایک ساتھ جینا ہے اور میرا یہ پختہ ایمان ہے کہ کسی کو بھی اس ابدی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
طیب ایردوآن نے بیان کیا کہ ترکیہ ہر اس عمل یا بحث کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے جو برادر اقوام کے درمیان دشمنی کے بیج بوئے اور ہمارے خطے کو تقسیم کرنے، ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور صہیونی تسلط قائم کرنے کے ناپاک منصوبوں کو سہارا دے۔