بیروت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) لبنان پر قابض اسرائیل کی فوجی جارحیت میں مسلسل تیزی آ رہی ہے جہاں ایک طرف فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی گئی ہے تو دوسری جانب زمینی کارروائیوں کا دائرہ بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔ جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی جھڑپوں کے نتیجے میں شہداء اور زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور خاص طور پر مغربی سیکٹر میں لڑائی کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے تحت کام کرنے والے ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کی روزانہ کی رپورٹ کے مطابق دو مارچ سنہ 2026ء سے اب تک قابض اسرائیل کی سفاکیت کے نتیجے میں شہداء کی تعداد 1024 تک جا پہنچی ہے جبکہ 2740 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بیروت میں لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے جنوبی ضاحیہ کے علاقوں غبیری اور برج البراجنہ پر بمباری کی ہے تاہم ابھی تک نشانہ بننے والے مقامات کی نوعیت اور جانی نقصان کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔
جنوبی لبنان میں ہفتے کی صبح ایک گھر کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک شخص شہید اور دو زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ ضلع بنت جبیل میں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ساحلی شہر صور اور سرحد کے قریب واقع قصبے ناقورہ سمیت دیگر علاقوں کو بھی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ فضائی حملے ناقورہ کی جانب سے قابض فوج کی زمینی پیش قدمی کی کوششوں اور مغربی سیکٹر میں جھڑپوں کے دائرہ کار میں وسعت کے ساتھ ساتھ کیے جا رہے ہیں جبکہ سرحدی علاقوں میں بھاری فضائی اور توپ خانے کی بمباری بھی جاری ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے چھ دیہات میں قابض فوج کے ٹھکانوں اور ان کے اجتماع پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق خیام حراستی مرکز کے گردونواح اور علما الشعب کے سامنے واقع نمر الجمل کے مقام پر قابض فوجیوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا جس میں براہ راست جانی نقصان کی تصدیق کی گئی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاط کے مقام پر فوجی اجتماع کو خودکش ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جبکہ شہر خیام میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں اور راکٹوں سے شدید جھڑپیں ہوئیں۔
حزب اللہ نے یہ بھی بتایا کہ الطیبہ پراجیکٹ میں قابض فوجیوں اور ان کی گاڑیوں کے اجتماع کو ایک مخصوص میزائل سے نشانہ بنایا گیا جبکہ خیام حراستی مرکز کے قریبی ٹھکانوں پر بھی حملے کیے گئے۔ تنظیم نے ناقورہ بلدیہ کی عمارت کی طرف قابض اسرائیل کی پیش قدمی کی کوشش کو ناکام بنانے اور پیش قدمی کرنے والے دستوں کو براہ راست جانی نقصان پہنچانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
یہ شدید کشیدگی ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب کھلی جنگ کے باعث عام شہریوں پر بڑھتے ہوئے مظالم اور لبنان کے انفراسٹرکچر کی تباہی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔