• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home Uncategorized

رام اللہ میں "امریکی عرب یونیورسٹی” نے شیخ عبدالستار قاسم کو داخلے سے روک دیا

پیر 01-11-2010
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS

palestine_foundation_pakistan_dr-abdelsattar-qasem-a-professor-of-political-science-at-the-university-of-al-najjah2

مغربی کنارے میں قائم امریکی زیرانتظام” امریکن عرب یونیورسٹی” نے ایک طلبہ تنظیم کی دعوت پر معروف فلسطینی دانشور شیخ عبدالستارقاسم کو لیکچر دینے سے روک دیا. مرکز اطلاعات فلسطین کے ذرائع کے مطابق نابلس کی النجاح نیشنل یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک گروہ نے امریکن عرب یونیورسٹی میں جہاد اسلامی کے شہید راہ نما فتحی شقاقی کی شہادت کی یاد میں ایک تقریب میں خطاب کے لیے مدعو کیا تھا، تاہم یونیورسٹی کی انتظامیہ نے انہیں تقریب میں شرکت کے لیے یونیورسٹی میں آنے سے روک دیا ہے. ڈاکٹر عبدالستار قاسم نے اپنے ایک تازہ مضمون میں بتایا ہے کہ انہیں یونیورسٹی کے طلبہ کی طرف سے اصرار کے ساتھ مدعو کیا تھا جس پر وہ جہاد اسلامی کے رہ نما کی پندرہویں یوم شہادت کے فتحی شقاقی کے بارے میں خطاب کرنا چاہتے تھے، تاہم جب انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کوا پنی آمد سے متعلق آگاہ کیا تو جامعہ کے ایک اعلیٰ سطح کے عہدیدارنے کہا کہ انہیں یونیورسٹی میں داخلے کی اجازت نہیں اور وہ طلبہ کی تقریب میں شرکت نہیں کر سکتے. شیخ عبدالستار قاسم کا کہنا ہے کہ انہیں مغربی کنارے میں فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی حمایت اور عباس ملیشیا کے کردار پر تنقید کی وجہ سےانتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ان کے یونیورسٹی سے روکے جانے کے اسباب سیاسی ہیں، تاہم انہیں سیکیورٹی امور کی آڑ میں روکا جا رہا ہے.وہ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ جامعات اور تعلیمی ادارے طلبہ کو آزادی اظہار کی تعلیم دیتے ہیں اور ہر قسم کے لوگوں کو بھی اظہارخیال کے لیے مدعو کیا جاتا ہے تاہم فلسطینی حکومت انہیں آزادی اظہار رائے سے محروم کر رہی ہے فلسطینی مزاحمتی تنظیموں اور عوام کے درمیان تعلقات کے بارے میں وہ مزید لکھتے ہیں حماس اور جہاد اسلامی جسی تنظیمیں فلسطینی عوام کا حصہ ہیں، انہیں عوام سے جدا نہیں کیا جا سکتا. اسرائیل اگر غزہ پر حماس کو عوام سے الگ کرنے کے لیے دوبارہ جنگ مسلط کرتا ہے تووہ کسی صورت میں کامیاب نہیں ہو گا.

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.