مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی حکام مقبوضہ القدس میں مسلسل انیسویں روز بھی مسجد اقصیٰ کی تالہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے لیے علاقائی صورتحال سے وابستہ سکیورٹی وجوہات کا سہارا لیا جا رہا ہے، جبکہ محکمہ اوقاف اسلامی سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل عید الفطر کے اختتام تک مسجد کو بند رکھے گا۔
مقدس شہر کے باسیوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی چوکھٹ پر نماز ادا کرنے کی کوششوں کے جواب میں قابض اسرائیلی افواج نے وسطی مقبوضہ القدس میں باب الساہرہ کے گرد عشاء اور تراویح کی نماز ادا کرنے والے نمازیوں پر وحشیانہ حملہ کیا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی اہلکاروں نے نمازیوں پر آواز والے بم برسائے، کئی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا اور "ہوم فرنٹ” کی ہدایات کا بہانہ بنا کر سینکڑوں لوگوں کو منتشر کر دیا۔
رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کے اگلے روز اور اوقاف کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد کہ قابض اسرائیل عید الفطر کے اختتام تک مسجد اقصیٰ پر تالہ بندی برقرار رکھے گا، اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی میزائلوں کے ٹکڑے مسجد اقصیٰ کے صحنوں اور خاص طور پر چرچ آف ہولی سیپلکر (کنيسۃ القیامہ) کے احاطے میں گرے ہیں۔
مقدسی کارکنان کا ماننا ہے کہ یہ خبریں قابض پولیس کو تالہ بندی کی مدت بڑھانے کے لیے عین وقت پر مطلوبہ جواز فراہم کرنے کے لیے گھڑی گئی ہیں، تاکہ ان کا ترجمان اس بندش کی ضرورت اور اہمیت پر تحریری و تصویری بیانات جاری کرنے کے لیے تیار رہ سکے۔
اسی تناظر میں قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ القدس کے سوق خان الزیت میں واقع "مطعم النصر” کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے اور اس کے مالک کو باب العمود کے علاقے میں شہریوں اور راہگیروں کے لیے گرم کھانا تیار کرنے اور تقسیم کرنے سے روک دیا ہے، جو کہ ماہِ صیام کے دوران خیراتی کام کے طور پر صاحبِ خیر افراد کے تعاون سے پیش کیا جاتا ہے۔
قابض حکام ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کی مشترکہ جارحیت سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کا بہانہ بنا کر مسلسل انیسویں دن بھی مسجد اقصیٰ کو بند رکھے ہوئے ہیں اور نمازیوں کو وہاں پہنچنے سے روک رہے ہیں۔
سنہ 1967ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ قابض اسرائیل نے نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی اور اعتکاف سے روک دیا ہے، جس کے باعث رمضان المبارک کے آخری جمعہ اور لیلۃ القدر کی بابرکت محافل ان پاکیزہ فضاؤں میں منعقد نہ ہو سکیں۔
القدس گورنری نے قبل ازیں نام نہاد انتہا پسند "ہیکل تنظیموں” کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے خلاف بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی اور مسلسل تالہ بندی کے خطرناک نتائج پر خبردار کیا تھا۔
گورنری نے اس بات پر زور دیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے قابض حکام کے دعووں کے مطابق "عارضی سکیورٹی اقدامات” نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ ایک سیاسی اور نظریاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد مسجد اقصیٰ کی تاریخی، مذہبی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ کے تمام معاملات بشمول داخلے کی ترتیب اور ضرورت کے وقت دروازے کھولنے یا بند کرنے کا اختیار صرف القدس کے محکمہ اوقاف اسلامی کے پاس ہے جو اردن کی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور کے ماتحت ہے، اور یہ اختیار القدس کے اسلامی و مسیحی مقدسات پر ہاشمی سرپرستی کے تحت ہے جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے اور خود قابض حکام بھی دہائیوں سے اس کا اعتراف کرتے آئے ہیں۔
اسی حوالے سے "مڈل ایسٹ آئی” کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ القدس میں اوقاف کے حکام کو اسرائیلی پولیس کی جانب سے باقاعدہ اطلاع دی گئی ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بندش عید الفطر کے اختتام تک برقرار رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیل اوقاف کے 25 سے زائد ملازمین کو ایک وقت میں مسجد میں داخل ہونے سے روک رہا ہے، اور جب شعبہ مخطوطات نے ایک اضافی ملازم کو اندر بھیجنے کی کوشش کی تو اسرائیلی پولیس نے جواب دیا کہ ایک ملازم کے داخلے کے بدلے مسجد اقصیٰ کو آباد کاروں کے دھاووں کے لیے کھول دیا جائے گا۔
رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے چھت والے مصلوں کے اندر خفیہ کیمرے اور صحنِ اقصیٰ میں ہر جہت پر نظر رکھنے والے نئے کیمرے نصب کر دیے ہیں، جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تالہ بندی کی پالیسی ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے اور اس جنگ کا ایک بڑا مقصد مسجد کے انتظامی امور میں تقدیر ساز تبدیلیاں مسلط کرنا ہے۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم "عیر عمیم” کے مطابق قابض حکام نے رواں ماہ کے اوائل میں القدس میں یہودیوں کے تہوار "پوریم” کی تقریبات کی اجازت دی تھی، جو اس شہر میں عوامی اجتماعات پر پابندیوں کے حوالے سے کھلے تضاد اور امتیازی سلوک کو بے نقاب کرتا ہے۔