مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مسجد اقصیٰ کے امور کے ماہر عبداللہ معروف نے کہا ہے کہ قبلہ اول پر حال ہی میں مسلط کی گئی تالہ بندی "بذاتِ خود ایک مقصد” ہے، جس کا اولین ہدف رمضان المبارک جیسے کٹھن ترین وقت میں ایک "عملی تجربہ” کرنا ہے۔ ان کے بقول قابض اسرائیل اس کے ذریعے رمضان کے بعد مسجد اقصیٰ میں وسیع تر میدانی اور انتظامی تبدیلیاں کرنے کی اپنی صلاحیت کو پرکھ رہا ہے، کیونکہ رمضان کے بعد وہاں مسلمانوں کی آمد میں کمی آ جاتی ہے۔
عبداللہ معروف نے مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں مسجد اقصیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا تعلق موجودہ جنگ یا علاقائی کشیدگی سے نہیں ہے، بلکہ ان عوامل کو محض ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ مسجد کے اندر رائج صورتحال (اسٹیٹس کو) کو تبدیل کرنے کے اقدامات کو جواز فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ رمضان المبارک کے دوران ان اقدامات کا انتخاب انتہائی حساسیت کا حامل ہے، لیکن ان کے نزدیک یہ زمین پر عوامی ردعمل کو جانچنے کا ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے تاکہ مستقبل میں مزید بڑی تبدیلیوں کی راہ ہموار کی جا سکے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ پالیسیاں فلسطینیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ قابض اسرائیلی حکام مسجد اقصیٰ میں خود کو واحد انتظامی فیصلہ ساز کے طور پر راسخ کرنا چاہتے ہیں۔ دشمن وہاں اپنی نام نہاد "عملی خودمختاری” کو اس طرح مضبوط کرنا چاہتا ہے کہ مسجد کے نظم و نسق کا تعین کرنے والی وہ واحد جہت بن جائے اور محکمہ اوقاف اسلامی کے وجود یا شہرِ القدس میں فلسطینیوں کی موجودگی کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے۔
عبداللہ معروف نے بتایا کہ ان اقدامات کی سنگینی اس بات میں پنہاں ہے کہ یہ القدس کے حقائق کے ساتھ نمٹنے کے لیے قابض اسرائیل کے بدلے ہوئے اسلوب کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اب دشمن فلسطینیوں کی عوامی موجودگی کو کوئی اہمیت نہیں دے رہا اور اسے لگتا ہے کہ اب یہ موجودگی مسجد اقصیٰ کے اندر اپنی مرضی مسلط کرنے کے قابل نہیں رہی، جو کہ اس مقدس مقام کی فطرت اور مقصد کو متاثر کرنے والی بنیادی تبدیلیوں کا دروازہ کھولتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مرحلے میں مسجد اقصیٰ کی ساخت یا اس کی اسلامی شناخت کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کو روکنے کے لیے وہاں عوامی موجودگی کو کثافت کے ساتھ برقرار رکھنا ضروری ہے، جو اسرائیلی اقدامات کے خلاف ایک پریشر گروپ کا کام کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی ارادے کو مسلط کرنا، چاہے اس سے القدس اور مغربی کنارے میں کشیدگی ہی کیوں نہ بڑھے، دشمن کے لیے ایک رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کے اندازے کے مطابق قابض اسرائیل موجودہ جنگی حالات میں اپنے اندرونی محاذ کی کمزوری کے باعث کشیدگی کے مزید پھیلاؤ سے خوفزدہ ہے۔