غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی، ان کے صاحبزادے اور ساتھیوں کی ایرانی دارالحکومت تہران پر بزدلانہ صیہونی بمباری اور کھلی جارحیت میں شہادت پر اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت اور عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
حماس نے اپنے ایک بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے جو قابض اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کا نشانہ بن رہا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ اس جارحیت کا تسلسل ایک ایسا جرم ہے جو پورے خطے کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، جس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری امریکی انتظامیہ اور قابض اسرائیل کی فاشسٹ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
حماس نے کہا کہ مہم جناب علی لاریجانی اور قابض اسرائیل و امریکہ کی وحشیانہ جارحیت میں شہید ہونے والے تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، قضیہ فلسطین اور ہمارے عوام کے جائز حقوق کی حمایت میں ان کے شاندار موقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ شہدا کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے، ان کے اہل خانہ اور برادران کو صبر جمیل عطا فرمائے اور برادر ایرانی عوام کو ہر شر اور مصیبت سے محفوظ رکھے۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے منگل کی شام علی لاریجانی کی شہادت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے جاری واقعات کے تناظر میں "میدانِ خدمت” میں اپنی جان قربان کی۔
کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ لاریجانی نے اپنی پوری زندگی ایران اور اس کے انقلاب کی خدمت میں گزاری، بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ انہوں نے اپنے صاحبزادے مرتضیٰ لاریجانی اور کونسل کے سیکرٹریٹ میں ایک سکیورٹی معاون سمیت متعدد ساتھیوں کے ہمراہ شہادت کا رتبہ پایا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لاریجانی کی شہادت ایک "جہادی سفر” کا تسلسل ہے اور اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ پیش رفت امت کے ثبات اور عزم میں اضافے کا ہی باعث بنے گی۔
کونسل کے بیان میں شہادت کے مقام یا حالات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ لاریجانی وہ اعلیٰ ترین ایرانی شخصیت ہیں جنہیں گذشتہ 28 فروری کو جنگ کے پہلے ہی روز علی خامنہ ای کے بعد قابض اسرائیل نے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا ہے۔