مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ القدس کے مختلف علاقوں میں نمازیوں کو عشاء اور تراویح کی نماز ادا کرنے سے جبراً روک دیا اور ان پر وحشیانہ تشدد کیا جبکہ قبلہ اول مسجد اقصیٰ مبارک کو فلسطینیوں کے لیے بند کیے ہوئے آج مسلسل انیسواں روز ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی فوجی دستوں نے باب العامود اور باب الساہرہ کے گردونواح کے ساتھ ساتھ الرشیدیہ سکول کے قریبی علاقوں میں ناکہ بندی کر دی اور عبادت کے لیے جمع ہونے والے نمازیوں کو نماز تراویح کی ادائیگی سے روکتے ہوئے انہیں وہاں سے زبردستی نکال دیا۔
ذرائع نے اس سنگین صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قابض اسرائیلی اہلکاروں نے قدیم شہر کے تاریخی دروازے باب الساہرہ کے قریب اللہ کے حضور سربسجود نمازیوں پر دھاوا بول دیا اور ان پر تشدد کر کے ان کی عبادت میں خلل ڈالا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج نے نمازیوں کو وادی الجوز محلے کی جانب دھکیلا تاکہ انہیں منتشر کیا جا سکے اور نماز کے لیے کسی بھی طرح کا اجتماع منعقد نہ ہونے دیا جائے۔
اسی وحشیانہ کارروائی کے دوران قابض اسرائیلی افواج نے جمعہ بازار کے داخلی راستے پر زہریلی آنسو گیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں پورے علاقے میں خوف و ہراس اور شدید تناؤ پھیل گیا۔
یہ ظالمانہ اقدامات مقدسی شہریوں کے خلاف جاری اس وسیع تر صہیونی مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد القدس اور بالخصوص قدیم شہر کا محاصرہ کر کے مسلمانوں کو ان کے مقدس ترین مقام مسجد اقصیٰ تک پہنچنے سے روکنا اور ان کے مذہبی حقوق کو پامال کرنا ہے۔