تل ابیب – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) عبرانی ذرائع نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ مختلف علاقوں میں کلسٹر بموں اور میزائلوں کے گرنے کے نتیجے میں وسطی قابض اسرائیل میں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ذرائع کے مطابق پانچ کلسٹر بم وسطی علاقوں میں گرے جس سے بڑے پیمانے پر مادی نقصان ہوا جبکہ تل ابیب سمیت وسیع مقبوضہ علاقوں میں دھماکوں کی لرزہ خیز آوازوں کے ساتھ ہی خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی علاقے میں مزید دو میزائل بھی گرے جبکہ قابض ریاست کے اخبار ہارٹز نے تصدیق کی ہے کہ ایک ایرانی کلسٹر میزائل نے کئی مقامات پر تباہی مچائی ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے قابض اسرائیلی پولیس سے وابستہ سائبر ٹیکنالوجی کے مراکز اور اسلحہ سازی کے کارخانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کی 58 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر مختلف صہیونی ٹھکانوں اور خطے میں موجود امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے وضاحت کی ہے کہ ان حملوں نے نہاریا، بیت شیمش، تل ابیب اور مغربی القدس جیسے شہروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور اس کارروائی میں قادِر میزائلوں کے ساتھ ساتھ خرم شہر نامی وہ بھاری میزائل استعمال کیے گئے جن کے وار ہیڈ کا وزن دو ٹن ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ 28 فروری سے غاصب صہیونی ریاست اور امریکہ ایران کے خلاف مسلسل جارحیت اور سفاکیت کا ارتکاب کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ تہران ان مظالم کے جواب میں قابض اسرائیل کی جانب میزائلوں اور خودکش ڈرون طیاروں سے مسلسل جوابی حملے کر رہا ہے۔