مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی افواج نے پیر کی شام شہر القدس میں باب الساہرہ کے گردونواح میں نماز ادا کرنے والے فلسطینی نمازیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش اور نمازیوں کو اس کے صحنوں تک پہنچنے سے روکنے کے سنگدلانہ اقدامات کے سائے میں کی گئی۔
اہل القدس مسلسل پانچویں روز بھی عشاء اور تراویح کی نمازیں مسجد اقصیٰ کی دہلیز پر، خاص طور پر باب الساہرہ کے علاقے اور اس کے قرب و جوار میں ادا کر رہے ہیں۔ یہ احتجاجی روش مسجد اقصیٰ کی بندش اور رمضان المبارک کے دوران انہیں داخلے سے روکنے کے صہیونی فیصلے کے خلاف اظہارِ برائت ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض افواج نے علاقے میں نمازیوں کا محاصرہ کیا اور انہیں نماز کی ادائیگی سے روکا۔ صہیونی اہلکاروں نے نمازیوں کو وہاں سے چلے جانے کا حکم دیا اور اس دوران باب الساہرہ کے قریب ایک فلسطینی نوجوان کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
باب الساہرہ القدس کے قدیم شہر کے دروازوں میں سے ایک ہے، جہاں گذشتہ کئی دنوں سے ان نمازیوں کا ہجوم جمع ہو رہا ہے جو مسجد اقصیٰ تک رسائی نہ ملنے کے بعد اس کے قریب ترین مقامات پر نماز ادا کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں۔
یہ تازہ ترین پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسجد اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے بند کیے ہوئے مسلسل سترہواں روز ہے۔ قابض افواج نے قدیم شہر کے گردونواح میں سخت فوجی اقدامات نافذ کر رکھے ہیں، جہاں فوجیوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے اور رکاوٹیں کھڑی کر کے مقامی رہائشیوں کے علاوہ کسی بھی شخص کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، القدس گورنری نے مسجد اقصیٰ کے خلاف انتہا پسند تنظیموں کی قیادت میں اشتعال انگیز بیان بازی میں خطرناک اضافے پر خبردار کیا ہے۔ گورنری نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش کا مقصد وہاں کے موجودہ مذہبی، تاریخی اور قانونی تشخص کو تبدیل کرنا ہے۔
ادھر فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش فلسطینیوں کے حقوق اور مقدس شہر کی موجودہ صورتحال کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ مسجد اقصیٰ میں گذشتہ رات اور آج فجر کے وقت وہ صورتحال دیکھی گئی جسے سنہ 1967ء کے قبضے کے بعد بے مثال قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ لیلۃ القدر کے موقع پر بھی وہاں نماز کی ادائیگی اور اعتکاف پر مکمل پابندی عائد رہی۔